ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ البقرة (2) — آیت 168

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ کُلُوۡا مِمَّا فِی الۡاَرۡضِ حَلٰلًا طَیِّبًا ۫ۖ وَّ لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّیۡطٰنِ ؕ اِنَّہٗ لَکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۶۸﴾
اے لوگو! ان چیزوں میں سے جو زمین میں ہیں حلال، پاکیزہ کھائو اور شیطان کے قدموں کی پیروی مت کرو، بے شک وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔ En
لوگو جو چیزیں زمین میں حلال طیب ہیں وہ کھاؤ۔ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو۔ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے
En
لوگو! زمین میں جتنی بھی حلال اور پاکیزه چیزیں ہیں انہیں کھاؤ پیو اور شیطانی راه پر نہ چلو، وه تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

168۔ لوگو! زمین میں جو حلال اور پاکیزہ [208] چیزیں ہیں، وہی کھاؤ اور شیطان کے پیچھے [209] نہ لگ جاؤ۔ وہ تو تمہارا کھلا دشمن ہے
[208] حلال سے مراد ایک تو وہ سب چیزیں ہیں جنہیں شریعت نے حرام قرار نہیں دیا۔ دوسرے وہ جنہیں انسان اپنے عمل سے حرام نہ بنا لے۔ جیسے چوری کی مرغی یا سود اور نا جائز طریقوں سے کمایا ہوا مال اور پاکیزہ سے مراد وہ صاف ستھری چیزیں ہیں جو گندی سڑی، باسی اور متعفن نہ ہو گئی ہوں۔ حرام چیزوں سے بچنے کی احادیث میں بہت تاکید آئی ہے۔ اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے۔
کسب حلال اور اس کی اہمیت:۔
حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! اللہ پاک ہے اور وہ صرف پاک مال قبول کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو بھی اسی بات کا حکم دیا جس کا اس نے رسولوں کو حکم دیا: چنانچہ فرمایا ﴿يٰايُّهَا الرُّسُلُ..﴾ (اے پیغمبرو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو اور فرمایا اے ایمان والو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمہیں دی ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کا ذکر کیا جو لمبا سفر کر کے آیا ہو، اس کے بال پریشان اور خاک آلود ہوں وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلاتا ہے اور کہتا ہے اے میرے پروردگار! اے میرے پروردگار! جبکہ اس کا کھانا حرام، پینا حرام، لباس حرام اور جس غذا سے اس کا جسم بنا ہے وہ بھی حرام ہے تو پھر اس کی دعا کیسے قبول ہو گی؟ [ترمذي، ابواب التفسير مسلم، كتاب الزكوٰة باب قبول الصدقة من كسب الطيب]
حرام خور کی دعا قبول نہیں ہوتی:۔
حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ گوشت جو مال حرام سے پروان چڑھا ہے وہ جنت میں داخل نہ ہو گا اور جو بھی گوشت حرام سے پروان چڑھا اس کے لیے جہنم ہی لائق تر ہے۔“ [احمد، دارمي، بحواله مشكوٰة، كتاب البيوع باب الكسب و طلب الحلال فصل ثاني]
3۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص حرام مال کمائے اور پھر اس سے صدقہ کرے تو وہ صدقہ قبول نہیں ہوتا اور اگر اس سے خرچ کرے تو اس میں برکت نہیں ہوتی۔ [احمد، بحواله مشكوٰاة، كتاب البيوع باب الكسب و طلب الحلال، فصل ثاني]
حرام مال سے صدقہ قبول نہیں ہوتا:۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ صرف پاکیزہ کمائی سے ہی صدقہ قبول کرتا ہے۔ [مسلم، كتاب الزكوٰة، باب بيان ان اسم الصدقه يقع على كل نوع من المعروف]
حرام اور مشکوک چیزیں چھوڑنے کا حکم:۔
حضرت نعمان بن بشیرؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں کہتے سنا ہے کہ حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں جنہیں اکثر لوگ نہیں جانتے۔ اب جو شخص ان مشتبہ چیزوں سے بچا رہا اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا اور جو مشتبہ چیزوں میں پڑ گیا اس کی مثال اس چرواہے کی سی ہے جو کسی کی رکھ کے گرد اپنے جانوروں کو چراتا ہے، قریب ہے کہ وہ رکھ میں جا گھسیں۔ سن لو ہر بادشاہ کی ایک رکھ ہوتی ہے۔ سن لو! اللہ کی رکھ اس کی زمین میں حرام کردہ چیزیں ہیں۔ [بخاري، كتاب الايمان، باب فضل من استبراء لدينه مسلم، كتاب المساقاة باب اخذ الحلال و ترك الشبهات]
6۔ عطیہ سعدیؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بندہ اس وقت تک متقی نہیں بن سکتا جب تک اندیشہ والی چیزوں سے بچنے کی خاطر ان چیزوں کو نہ چھوڑ دے جن میں کوئی اندیشہ نہیں۔“ [ترمذي، ابن ماجه، بحواله مشكوٰة، كتاب البيوع، باب الكسب و طلب الحلال]
7۔ حضرت حسن بن علیؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات یاد رکھی ہے کہ ”جو چیز تجھے شک میں ڈالے اسے چھوڑ اور وہ اختیار کر جو شک میں نہیں ڈالتی۔“ [احمد بحواله مشكوٰة، كتاب البيوع، باب الكسب و طلب الحلال]
8۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ آدمی اس بات کی پروا نہیں کرے گا کہ جو مال اس کے ہاتھ آیا ہے وہ حلال ہے یا حرام۔“ [بخاري، كتاب البيوع، باب مالم يبال من حيث كسب المال]
[209] حرام مال کو حلال اور حلال کو حرام قرار دینا اور شیطان کی پیروی ہے: یہاں شیطان کے پیچھے چلنے سے مراد یہ ہے جو چیزیں اللہ نے حرام نہیں کیں انہیں حرام نہ سمجھ لو، جیسے مشرکین عرب بتوں کے نام سانڈ چھوڑ دیتے تھے۔ پھر ان جانوروں کا گوشت کھانا یا ان سے کسی طرح کا بھی نفع اٹھانا حرام سمجھتے تھے یا کسی مخصوص کھانے پر اپنی طرف سے پابندیاں عائد کر کے اسے حرام قرار دے لیتے تھے۔ یہی صورت کسی حرام چیز کو حلال قرار دینے کی ہے۔ جیسے یہود نے سود کو حلال قرار دے لیا تھا۔ امیوں کا مال کھانا جائز سمجھتے تھے اور یہ شرک ہے۔ کیونکہ حلال و حرام قرار دینے کے جملہ اختیارات اللہ کو ہیں۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے قریب میری امت میں سے کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو شراب کا کوئی دوسرا نام رکھ کر اس کو حلال بنا لیں گے۔ [بخاري، كتاب الاشربه، باب فيمن يستحل الخمر ويسميه بغيراسمه] اور ابو مالک کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ میری امت میں سے کچھ لوگ پیدا ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور باجے گاجے وغیرہ کے دوسرے نام رکھ کر انہیں حلال بنا لیں گے۔ [حواله ايضاً] اور ایسی سب باتیں اللہ کی صفات میں شرک کے مترادف ہیں۔ کیونکہ حلت و حرمت کے جملہ اختیارات اللہ ہی کو ہیں۔