ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ البقرة (2) — آیت 163

وَ اِلٰـہُکُمۡ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الرَّحۡمٰنُ الرَّحِیۡمُ ﴿۱۶۳﴾٪
اور تمھارا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، بےحد رحم والا، نہایت مہربان ہے۔ En
اور (لوگو) تمہارا معبود خدائے واحد ہے اس بڑے مہربان (اور) رحم کرنے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں
En
تم سب کا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وه بہت رحم کرنے واﻻ اور بڑا مہربان ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

163۔ تمہارا الٰہ ایک ہی الٰہ ہے، اس کے سوا [120] کوئی الٰہ نہیں۔ وہ نہایت مہربان بڑا رحم کرنے والا ہے
[201] کئی خدا سمجھنے کی وجہ، صرف ایک اللہ کی عبادت کیوں؟
یہ خطاب در اصل مشرکین مکہ سے ہے۔ جنہوں نے کئی الٰہ بنا رکھے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ اتنے بڑے کار گاہ کائنات کا سارے کا سارا انتظام ایک اکیلا اللہ کیسے سنبھال سکتا ہے؟ ان کی عقل میں یہ بات آ ہی نہیں سکتی تھی۔ لہٰذا انہوں نے مختلف امور کے لیے مختلف الٰہ تجویز کر رکھے تھے اور جتنی پرانی تہذیبیں پائی جاتی ہیں۔ مثلاً ہندی، رومی، مصری، یونانی تہذیبیں، ان سب لوگوں نے دیوی دیوتاؤں کا ایسا ہی نظام تجویز کر رکھا تھا اور مسلمانوں میں بھی اکثر لوگوں میں گو زبانی نہیں مگر عملاً ایسے ہی اعتقادات و افعال رائج ہو چکے ہیں۔ یہ سب لوگ ہی اس آیت کے مخاطب ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی معرفت نصیب نہیں ہوتی اور قرآن میں یہ مضمون لاتعداد مقامات پر آیا ہے۔ کہیں اجمالاً کہیں تفصیل سے اور دلائل کے ساتھ۔ لہٰذا اس مضمون کی تفصیل کسی دوسرے مقام پر آجائے گی۔