ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ مريم (19) — آیت 78

اَطَّلَعَ الۡغَیۡبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنۡدَ الرَّحۡمٰنِ عَہۡدًا ﴿ۙ۷۸﴾
کیا اس نے غیب کو جھانک کر دیکھ لیا ہے؟ یا اس نے رحمان کے ہاں کوئی عہد لے رکھا ہے؟ En
کیا اس نے غیب کی خبر پالی ہے یا خدا کے یہاں (سے) عہد لے لیا ہے؟
En
کیا وه غیب پر مطلع ہے یا اللہ کا کوئی وعده لے چکا ہے؟ En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

78۔ کیا اسے غیب کا پتہ چل گیا ہے یا اس نے اللہ تعالیٰ سے کوئی عہد لے رکھا [71] ہے؟
[71] یعنی کیا اسے غیب کے حالات پر، جو دوسری زندگی میں پیش آنے والے ہیں۔ یہ اطلاع ہو گئی ہے کہ واقعی اسے اس دوسرے عالم میں بھی ایسے ہی مال و دولت ملے گا۔ جیسا اس دنیا میں اس کے پاس موجود ہے یا اس نے اللہ تعالیٰ سے کوئی وعدہ لے رکھا ہے کہ وہ اسے دوسرے عالم میں ضرور مال و دولت عطا کرے گا اور وہاں وہ اپنے قرض خواہ کا حساب بے باق کر سکے گا۔