ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ مريم (19) — آیت 76

وَ یَزِیۡدُ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اہۡتَدَوۡا ہُدًی ؕ وَ الۡبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیۡرٌ عِنۡدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَّ خَیۡرٌ مَّرَدًّا ﴿۷۶﴾
اور اللہ ان لوگوں کو جنھوں نے ہدایت پائی، ہدایت میں زیادہ کرتا ہے اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے ہاں ثواب کے اعتبار سے بہتر اور انجام کے لحاظ سے کہیں اچھی ہیں۔ En
اور جو لوگ ہدایت یاب ہیں خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے۔ اور نیکیاں جو باقی رہنے والی ہیں وہ تمہارے پروردگار کے صلے کے لحاظ سے خوب اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہیں
En
اور ہدایت یافتہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت میں بڑھاتا ہے، اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک ﺛواب کے لحاظ سے اور انجام کے لحاظ سے بہت ہی بہتر ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

76۔ اور جو لوگ راہ راست پر چلتے ہیں اللہ انھیں مزید ہدایت [68] عطا کرتے ہیں اور باقی رہنے والی نیکیاں ہی آپ کے پروردگار کے نزدیک ثواب [69] اور انجام کے لحاظ سے بہتر ہیں۔
[68] ہر واقعہ مومن کی ہدایت میں اضافہ کرتا ہے:۔
کافروں کی تو خوشحالی سے آزمائش ہوتی ہے اور ہر نعمت اور خوشحالی کے موقعہ پر ان کی گمراہی میں مزید اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اس کے برعکس مومنوں کے لئے ہر آزمائش مزید ہدایت کا سبب بن جاتی ہے۔ کوئی بھلائی اور نعمت ملے تو اللہ کا شکر بجا لاتے ہیں اور دکھ پہنچے تو صبر و استقلال کے دامن کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ غرض ہر حال میں وہ صابر و شاکر رہتے ہیں اور ہر نیا واقعہ وہ جیسا بھی ہو، ان کی مزید ہدایت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
[69] اس کی تشریح کے لئے سورۃ کہف کی آیت نمبر 46 کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔