ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ مريم (19) — آیت 39

وَ اَنۡذِرۡہُمۡ یَوۡمَ الۡحَسۡرَۃِ اِذۡ قُضِیَ الۡاَمۡرُ ۘ وَ ہُمۡ فِیۡ غَفۡلَۃٍ وَّ ہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۳۹﴾
اور انھیں پچھتاوے کے دن سے ڈرا جب (ہر) کام کا فیصلہ کر دیا جائے گا اور وہ سراسر غفلت میں ہیں اور وہ ایمان نہیں لاتے۔ En
اور ان کو حسرت (وافسوس) کے دن سے ڈراؤ جب بات فیصل کردی جائے گی۔ اور (ہیہات) وہ غفلت میں (پڑے ہوئے ہیں) اور ایمان نہیں لاتے
En
تو انہیں اس رنج وافسوس کے دن کا ڈر سنا دے جبکہ کام انجام کو پہنچا دیا جائے گا، اور یہ لوگ غفلت اور بے ایمانی میں ہی ره جائیں گے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

39۔ نیز انھیں پچھتاوے کے دن سے ڈرائیے جبکہ ہر کام کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اور (آج تو) یہ لوگ غفلت [35] میں پڑے ہیں اور ایمان نہیں لا رہے۔
[35] یوم حسرت موت کو مینڈھے کی شکل میں ذبح کرنا ہے:۔
کافروں کے پچھتانے کے مواقع تو بہت ہوں گے۔ مگر آخری موقع غالباً وہ ہو گا جب اہل جنت کو جنت جانے کا اور اہل دوزخ کو دوزخ میں جانے کا فیصلہ سنا دیا جائے گا جیسا کہ درج ذیل حدیث میں آیا ہے: ”سیدنا ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (قیامت کے دن) موت کو ایک چتکبرے مینڈھے کی شکل میں لے کر آئیں گے۔ پھر ایک پکارنے والا پکارے گا: ”اے اہل جنت!“ وہ ادھر دیکھیں گے تو فرشتہ کہے گا: ”تم اس مینڈھے کو پہچانتے ہو؟“ وہ کہیں گے ”ہاں۔ یہ موت ہے اور ہم سب اس کا مزہ چکھ چکے ہیں“ پھر وہ پکارے گا ”دوزخ والو!“ وہ لوگ بھی گردن اٹھا کر ادھر دیکھنے لگیں گے تو فرشتہ کہے گا: ”تم اس مینڈھے کو پہچانتے ہو؟“ وہ کہیں گے: ”ہاں! یہ موت ہے، ہم سب اس کو دیکھ چکے ہیں۔“ اس وقت وہ مینڈھا ذبح کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد وہ فرشتہ کہے گا: ”جنت والو! تمہیں ہمیشہ بہشت میں رہنا ہے اور دوزخ والو! تمہیں بھی ہمیشہ دوزخ میں رہنا ہے۔ اب کسی کو موت نہیں آئے گی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ﴿وَاَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ..... لَا يُؤْمِنُوْنَ [بخاري۔ كتاب التفسير، ترمذي، ابواب التفسير] اس دن کافر سب کچھ خوب دیکھ رہے ہوں گے اور سن بھی رہے ہوں گے مگر ہر طرف سے نا امید ہو کر حسرت سے اپنے ہاتھ کاٹیں گے۔ مگر اس وقت کچھ فائدہ نہ ہوگا۔