33۔ مجھ پر سلامتی ہو جس دن میں پیدا ہوا اور اس دن [30] بھی جب میں مروں گا اور اس دن بھی جب میں زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا۔
[30] سیدنا عیسیٰؑ کے اس وقت کے کلام کے باقی نکات یہ تھے کہ میں جہاں کہیں بھی رہوں گا اللہ کی مہربانی سے اس کی برکات میرے شامل حال رہیں گی اور مجھے یہ بھی تاکیدی حکم دیا گیا ہے کہ جب تک زندہ رہوں باقاعدگی کے ساتھ نمازیں اور زکوٰۃ ادا کرتا رہوں۔ اور اپنی والدہ سے بہتر سلوک کرتا رہوں (صرف والدہ کا ذکر اس لئے کیا کہ آپ کا والد تھا ہی نہیں ورنہ اس کا بھی ضرور ذکر کرتے) اللہ نے میری سرشت میں نہ سرکشی رکھی ہے اور نہ بدبختی۔ جب میں پیدا ہوا تھا تو اس دن بھی اللہ نے مجھ پر سلامتی نازل فرمائی تھی اور مرتے وقت حتیٰ کہ مرنے کے بعد اٹھتے وقت یعنی اس دنیا میں بھی اور اگلے جہان میں بھی بہرحال اللہ مجھ پر سلامتی نازل فرمائے گا۔ یہ تھا وہ پورا کلام جو سیدنا عیسیٰؑ نے اس وقت کیا تھا جبکہ آپ کی والدہ پر الزام تراشیاں کی جا رہی تھیں۔
گود میں کلام کرنے والے تین بچے:۔
واضح رہے کہ بخاری و مسلم دونوں میں ایک طویل حدیث موجود ہے جس میں یہ مذکور ہے کہ بنی اسرائیل کے تین بچوں نے مہد میں کلام کیا تھا۔ ان میں سے ایک تو یہی سیدنا عیسیٰؑ ہیں۔ ان کے مخاطب یہود تھے اور آپ کے اس کلام کا مقصود پہلے بیان ہو چکا ہے۔ دوسرا ابن جریج راہب کا قصہ ہے جسے بالخصوص مسلم نے بڑی تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ ابن جریج راہب پر زنا کی تہمت لگائی گئی تو انہوں نے اللہ سے بریت کی دعا کی پھر حرامی نومولود بچہ کو کچوکا لگا کر پوچھا کہ بتاؤ کہ تمہارا باپ کون ہے؟ تو بچہ بول اٹھا کہ فلاں چرواہا ہے۔ اس طرح اللہ نے ابن جریج راہب کو زنا کی تہمت سے بری فرما دیا۔ اور تیسرے بچہ کی مخاطب اس کی ماں تھی جو سامان دنیا پر ریجھی ہوئی تھی تو بچہ نے بول کر اپنی ماں کی گمراہ کن غلط فہمی کو دور کر دیا۔ اور مہد میں کلام کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بچہ شیر خوارگی کے عالم میں کلام کرے جب کہ ابھی اس نے کلام کرنا نہ سیکھا ہو۔ اور یہ مہد کا کلام تینوں واقعات میں صرف ایک ہی بار وقوع پذیر ہوا۔ یہ نہیں کہ ان بچوں نے اس عالم میں متعدد بار کلام کیا ہو۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔