ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ مريم (19) — آیت 3

اِذۡ نَادٰی رَبَّہٗ نِدَآءً خَفِیًّا ﴿۳﴾
جب اس نے اپنے رب کو چھپی آواز سے پکارا۔ En
جب انہوں نے اپنے پروردگار کو دبی آواز سے پکارا
En
جبکہ اس نے اپنے رب سے چپکے چپکے دعا کی تھی En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ جب زکریا نے اپنے پروردگار کو چپکے [4] چپکے پکارا
[4] اس کے کئی مفہوم ہو سکتے ہیں۔ مثلاً رات کی نماز تہجد میں جب انسان کو کوئی دیکھ نہیں رہا ہوتا اور وہ بڑی دلجمعی اور سکون کے ساتھ اپنے پروردگار کو پکارتا ہے۔ دوسرا مطلب یہ کہ بڑھاپے اور مایوسی کی عمر میں ایسی بات کی درخواست کی کہ اگر دوسرے لوگ سن لیں تو مذاق اڑائیں۔ اس لئے آہستہ آواز سے دعا کی۔ تیسرے یہ کہ جب سیدہ مریم کے پاس بے موسم میوے دیکھے تو دل ہی دل میں اللہ کو پکارنے لگے۔