تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { نِدَآءً خَفِيًّا:} چھپی آواز سے آہستہ آواز بھی مراد ہو سکتی ہے اور لوگوں سے الگ جگہ میں دعا بھی۔ اس کی وجہ بعض اہلِ علم نے یہ لکھی ہے کہ بڑھاپے میں بیٹا مانگنا لوگوں کی ہنسی کا باعث ہوتا، پھر اگر نہ ملتا تو لوگ مزید ہنستے، مگر صحیح بات یہ ہے کہ خفیہ دعا ریا کا امکان نہ ہونے کی وجہ سے افضل ہوتی ہے، چنانچہ فرمایا: «{ اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْيَةً }» [الأعراف: ۵۵] ”اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور خفیہ طور پر پکارو۔“ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز کو قرار دیا۔ [مسلم، الصیام، باب فضل صوم المحرم: ۱۱۶۳، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ] اور اس شخص کو عرش کا سایہ پانے والے سات خوش نصیبوں میں شمار فرمایا جس نے خلوت میں اللہ کو یاد کیا اور اس کی آنکھیں بہ پڑیں، حدیث کے الفاظ ہیں: [ذَكَرَ اللّٰهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهٗ] اسی طرح اس شخص کو بھی جس نے اس طرح چھپا کر صدقہ کیا کہ بائیں ہاتھ کو معلوم نہیں کہ دایاں کیا خرچ کر رہا ہے، حدیث کے الفاظ ہیں: [تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتّٰی لَا تَعْلَمَ شِمَالُهٗ مَا تُنْفِقُ يَمِيْنُهٗ] [بخاري، الزکوٰۃ، باب الصدقۃ بالیمین: ۱۴۲۳]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلما رأى من نفسه الضعف، وخاف أن يموتَ، ولم يكن أحدٌ ينوب منابه في دعوة الخلق إلى ربِّهم والنُّصح لهم، شكا إلى ربِّه ضعفه الظاهر والباطن، وناداه نداء خفيًّا؛ ليكون أكمل وأفضل وأتمَّ إخلاصاً، فقال: {ربِّ إنِّي وَهَنَ العظمُ منِّي}؛ أي: وَهَى وضَعُفَ، وإذا ضعف العظم الذي هو عماد البدن؛ ضعف غيره. {واشتعل الرأس شيباً}؛ لأنَّ الشيب دليلُ الضعف والكبر ورسولُ الموت ورائدُه ونذيرُه، فتوسَّل إلى الله تعالى بضعفه وعجزه، وهذا من أحبِّ الوسائل إلى الله؛ لأنَّه يدلُّ على التبرِّي من الحول والقوة وتعلُّق القلب بحول الله وقوَّته. {ولم أكن بدعائِكَ ربِّ شقيًّا}؛ أي: لم تكن يا ربِّ تردُّني خائباً ولا محروماً من الإجابة، بل لم تزلْ بي حفيًّا ولدعائي مجيباً، ولم تزل ألطافُك تتوالى عليَّ وإحسانُك واصلاً إليَّ، وهذا توسُّل إلى الله بإنعامه عليه وإجابة دعواته السابقة، فسأل الذي أحسن سابقاً أن يتمِّم إحسانَه لاحقاً.