ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ مريم (19) — آیت 10

قَالَ رَبِّ اجۡعَلۡ لِّیۡۤ اٰیَۃً ؕ قَالَ اٰیَتُکَ اَلَّا تُکَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا ﴿۱۰﴾
کہا اے میرے رب! میرے لیے کوئی نشانی مقرر کر دے۔ فرمایا تیری نشانی یہ ہے کہ تو تندرست ہوتے ہوئے لوگوں سے تین راتیں بات نہیں کرے گا۔ En
کہا کہ پروردگار میرے لئے کوئی نشانی مقرر فرما۔ فرمایا نشانی یہ ہے کہ تم صحیح وسالم ہو کر تین (رات دن) لوگوں سے بات نہ کرسکو گے
En
کہنے لگے میرے پروردگار میرے لئے کوئی علامت مقرر فرما دے، ارشاد ہوا کہ تیرے لئے علامت یہ ہے کہ باوجود بھلا چنگا ہونے کے تو تین راتوں تک کسی شخص سے بول نہ سکے گا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

10۔ زکریا نے عرض کیا: ”پروردگار! پھر میرے لئے کوئی نشانی مقرر کر دے“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”تیرے لئے نشانی [12] یہ ہے کہ تو مسلسل تین رات تک لوگوں سے گفتگو نہ کر سکے گا“
[12] سیدنا زکریاؑ کا حمل کی علامت پوچھنا:۔
یعنی ایسی نشانی جس سے معلوم ہو جائے کہ اب حمل قرار پا گیا ہے۔ چنانچہ علامت یہ بتائی گئی کہ تمہاری قوت گویائی بحال رہنے کے باوجود تم لوگوں سے بات چیت نہ کر سکو گے البتہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لئے زبان چلتی رہے گی۔ چنانچہ جب وہ وقت آگیا تو آپ ہر وقت ذکر الٰہی میں مشغول رہنے لگے۔ اور دوسروں کو اشارہ سے تاکید کر دی کہ ہر وقت اللہ کی یاد میں مشغول رہیں اور اللہ کا شکر ادا کرنے میں ان کے ساتھ شریک ہوں۔