تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ …: ” سَوِيًّا “} تندرست، صحیح اعضا والا نہ گونگا نہ بہرا۔ یہاں تین راتوں کا ذکر ہے، جبکہ سورۂ آل عمران میں تین دنوں کا ذکر ہے، یعنی نشانی یہ ہے کہ تین دن رات صحیح سالم، تندرست ہوتے ہوئے تم لوگوں سے بات چیت نہ کر سکو تو سمجھ لو کہ حمل قرار پا گیا۔ لوگوں کے ساتھ کلام سے زبان بند ہو گئی تھی، اللہ کے ذکر اور تسبیح و تحمید سے نہیں۔ دیکھیے سورۂ آل عمران (۴۱)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ «سَوِيًّا» کے معنی پے در پے کے ہیں یعنی مسلسل برابر تین شبانہ روز تمہاری زبان دنیوی باتوں سے رکی رہے گی۔ پہلا قول بھی آپ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے اور جمہور کی تفسیر بھی یہی ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
چنانچہ سورۃ آل عمران میں اس کا بیان بھی گزر چکا ہے کہ «قَالَ رَبِّ اجْعَل لِّي آيَةً قَالَ آيَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا رَمْزًا وَاذْكُر رَّبَّكَ كَثِيرًا وَسَبِّحْ بِالْعَشِيِّ وَالْإِبْكَارِ» ۱؎ [3-آل عمران:41] علامت طلب کرنے پر فرمان ہوا کہ ’ تین دن تک تم صرف اشاروں کنایوں سے لوگوں سے باتیں کر سکتے ہو۔ ہاں اپنے رب کی یاد بکثرت کرو اور صبح شام اس کی پاکیزگی بیان کرو ‘۔
پس ان تین دن رات میں آپ علیہ السلام کسی انسان سے کوئی بات نہیں کر سکتے تھے ہاں اشاروں سے اپنا مطلب سمجھا دیا کرتے تھے لیکن یہ نہیں کہ آپ علیہ السلام گونگے ہوگئے ہوں۔ اب آپ علیہ السلام اپنے حجرے سے، جہاں جا کر تنہائی میں اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا کی تھی، باہر آئے اور جو نعمت اللہ نے آپ علیہ السلام پر انعام کی تھی اور جس تسبیح و ذکر کا آپ علیہ السلام کو حکم ہوا تھا، وہی قوم کو بھی حکم دیا لیکن چونکہ بول نہ سکتے تھے، اس لیے انہیں اشاروں سے سمجھایا یا زمین پر لکھ کر انہیں سمجھا دیا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قال ربِّ اجعل لي آيةً}؛ أي: يطمئنُّ بها قلبي، وليس هذا شكًّا في خبر الله، وإنَّما هو كما قال الخليل عليه السلام: {ربِّ أرني كيفَ تُحيي الموتى قال أوَلَم تؤمن قال بلى ولكن ليطمئنَّ قلبي}: فطلب زيادة العلم والوصول إلى عين اليقين بعد علم اليقين، فأجابه الله إلى طِلْبَتِهِ رحمةً به. {قال آيتُك أن لا تكلِّمَ الناس ثلاثَ ليال سويًّا}، وفي الآية الأخرى: {ثلاثةَ أيام إلاَّ رَمْزاً}، والمعنى واحد؛ لأنَّه تارةً يعبِّر بالليالي، وتارةً بالأيَّام، ومؤدَّاها واحدٌ، وهذا من الآيات العجيبة؛ فإنَّ منعَه من الكلام مدة ثلاثة أيام وعجزَه عنه من غير خرسٍ ولا آفةٍ بل كان سويًّا لا نقصَ فيه من الأدلة على قدرةِ الله الخارقةِ للعوائد، ومع هذا ممنوعٌ من الكلام الذي يتعلَّق بالآدميِّين وخطابهم، وأما التسبيح [والتهليل] والذكر ونحوه فغيرُ ممنوع منه، ولهذا قال في الآية الأخرى: {واذكُر ربَّك كثيراً وسبِّح بالعشيِّ والإبكار}.