ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الكهف (18) — آیت 84

اِنَّا مَکَّنَّا لَہٗ فِی الۡاَرۡضِ وَ اٰتَیۡنٰہُ مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ سَبَبًا ﴿ۙ۸۴﴾
بے شک ہم نے اسے زمین میں اقتدار دیا اور اسے ہر چیز میں سے کچھ سامان عطا کیا۔ En
ہم نے اس کو زمین میں بڑی دسترس دی تھی اور ہر طرح کا سامان عطا کیا تھا
En
ہم نے اسے زمین میں قوت عطا فرمائی تھی اور اسے ہر چیز کے سامان بھی عنایت کردیے تھے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

84۔ بلا شبہ ہم نے اسے زمین میں اقتدار بخشا تھا اور ہر طرح کا ساز و سامان بھی [72] دے رکھا تھا۔
[72] ذو القرنین کون تھا؟
قریش کا تیسرا سوال ذو القرنین سے متعلق تھا جس کا ان آیات میں جواب دیا جا رہا ہے۔ ذو القرنین کی شخصیت کی تعیین کے لیے یہ بات تو بہرحال یقینی ہے کہ یہود کو اس کے متعلق علم تھا اور اس بادشاہ کا ذکر ان کی کتابوں میں موجود تھا تبھی تو انہوں نے قریش مکہ کو یہ سوال بتایا تھا اور جو کچھ قرآن سے معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ ایک مقتدر اور نامور بادشاہ تھا اللہ سے ڈرنے والا اور منصف مزاج تھا اس کی سلطنت خاصی وسیع تھی اور ذو القرنین کے لغوی معنی تو ’دو سینگوں والا‘ ہے مگر اس کے معنی یہ نہیں کہ فی الواقع اس کے سر پر دو سینگ تھے بلکہ اسے اس لحاظ سے ذو القرنین کہا جاتا تھا کہ اس کی سلطنت کا علاقہ کچھ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے ایک مینڈھا ہو اور اس کے سر پر دو سینگ ہوں۔ آیت نمبر 86 میں الفاظ ﴿قُلْنَا يٰذَا الْقَرْنَيْنِ سے بعض لوگوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ وہ نبی بھی تھا لیکن اکثریت اس کی نبوت کی قائل نہیں ہے کیونکہ صرف یہ الفاظ اثبات نبوت کے لیے کافی نہیں ہیں اور اس کی تائید میں قرآن سے کافی شواہد مل جاتے ہیں مثلاً سیدہ مریم نبیہ نہیں تھی تاہم فرشتہ یا فرشتے ان کے پاس آئے اور ہم کلام ہوئے۔ ام موسیٰ بھی نبیہ نہیں تھیں مگر ان کی طرف وحی ہونا قرآن سے ثابت ہے اسی طرح سیدنا لقمان کا معاملہ ہے۔ اس وحی سے وہ وحی مراد نہیں ہے جو انبیاءؑ پر بذریعہ فرشتہ نازل کی جاتی رہی ہے۔ یہاں لغوی معنی یعنی بذریعہ اشارہ ذہن میں ڈالنا۔ قرآن و حدیث میں یہ کہیں مذکور نہیں کہ ذو القرنین کا اصل نام کیا تھا؟ وہ کس علاقہ کا بادشاہ تھا؟ کس قوم سے تعلق رکھتا تھا؟ اور کس دور میں یہ بادشاہ گزرا ہے؟ مغربی جانب اس نے کہاں تک اور کون کون سے ممالک کو مسخر کیا تھا؟ اور مشرقی سمت میں کہاں تک پہنچا تھا؟ اس کا تیسرا سفر کون سی جانب تھا؟ سدّ ذو القرنین کس جگہ واقع ہے؟ لہٰذا ان سب امور کی تعیین میں مفسرین میں بہت اختلاف واقع ہوا اور ایسی مؤرخانہ تحقیق کا کتاب و سنت میں مذکور نہ ہونے کی اصل وجہ یہ ہے کہ قرآن کسی تاریخی واقعہ کو ذکر کرنے کے باوجود بھی ایسے امور کو زیر بحث نہیں لاتا جن کا انسانی ہدایت سے کچھ تعلق نہ ہو یا اس پر کسی شرعی حکم کی بنیاد نہ اٹھتی ہو یہ ذو القرنین کا واقعہ یہود کی الہامی کتاب تورات میں مذکور نہیں بلکہ تورات کی شروح و تفاسیر، جنہیں وہ اپنی اصطلاح میں تالمود کہتے ہیں مذکور ہے۔ جیسے ہمارے مفسرین نے بھی اپنی تفسیروں میں کئی ایسے واقعات درج کر دیئے ہیں جن کا قرآن اور حدیث میں ذکر تک نہیں ہوتا۔ بہرحال یہ بات تو مسلّم ہے کہ ذو القرنین کوئی ایسا بادشاہ تھا جس کی تعیین علمائے یہود کے دماغوں میں موجود تھی۔ اسی کے متعلق انہوں نے سوال کیا تھا اور اسی شخصیت کے متعلق قرآن نے جواب دے دیا اور جتنا جواب انھیں درکار تھا اتنا جواب قرآن نے انھیں دیا جس سے وہ مطمئن ہو گئے اور ان کے اطمینان کی دلیل یہ ہے کہ قرآن کے اس جواب کے بعد یہود نے یا یہود کے کہنے پر کفار مکہ نے ذو القرنین کے بارے میں کوئی مزید سوال نہیں کیا۔ تاہم ہمارے مفسرین نے مندرجہ بالا تاریخی سوالات کا حتی الامکان جواب دینے کی مقدور بھر کوشش کی ہے۔ چنانچہ مولانا مودودی رحمہ اللہ نے بائیبل کے مطالعہ کے بعد جو تحقیق پیش کی ہے وہ یہ ہے کہ ذو القرنین کا اطلاق ایرانی فرمانروا خورس پر ہی ہو سکتا ہے جس کا عروج 549 قم کے قریب شروع ہوا اس نے چند سال کے عرصہ میں میڈیا (الجبال) اور لیڈیا (اشیائے کوچک) کی سلطنتوں کو مسخر کرنے کے بعد 539 قم میں بابل کو فتح کر لیا تھا جس کے بعد کوئی طاقت اس کی راہ میں مزاحم نہ رہی۔ اس کی فتوحات کا سلسلہ سندھ اور صغد (موجودہ ترکستان) سے لے کر ایک طرف مصر اور لیبیا تک اور دوسری طرف تھریس اور مقدونیہ تک وسیع ہو گیا تھا اور شمال میں اس کی سلطنت کا کیشیا (قفقاز) اور خوارزم تک پھیل گئی تھی۔ عملاً اس وقت کی پوری مہذب دنیا اس کی تابع فرمان تھی۔ اور صاحب تفسیر حقانی کی تحقیق یہ ہے کہ ذو القرنین ایران کا نہیں بلکہ عرب کے کسی علاقہ کا بادشاہ ہو سکتا ہے اور یمن کے حمیری خاندان کا بادشاہ تھا۔ دلیل یہ ہے کہ ذو القرنین عربی لفظ ہے۔ فارسی یا ایرانی نہیں۔ علاوہ ازیں یمن کے بادشاہ زمانہ قدیم میں ذو کے ساتھ ملقب ہوا کرتے تھے جیسے ذونواس، ذوالنون، ذورعین، ذویزن وغیرہ وغیرہ۔ ایسے ہی ذو القرنین بھی تھے۔ ابو ریحان البیرونی اس کا نام ابو کرب بن عیربن افریقس حمیری بتاتے ہیں۔ اس کا اصل نام صعب تھا اور یہ تبع اول کا بیٹا تھا اور یہی وہ ذو القرنین ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔ اس کے بعد اس کا بیٹا ذو المنار ابرہہ، اس کے بعد اس کا بیٹا افریقس، اس کے بعد اس کا بھائی ذو الاذعار، اس کے بعد اس کا بھائی شرجیل، اس کے بعد اس کا بیٹا الہدہاد اور اس کے بعد اس کی بیٹی بلقیس بادشاہ ہوئی جو سیدنا سلیمانؑ کے پاس حاضر ہوئی تھی اور ذو القرنین کے مفہوم میں بھی اختلاف ہے قرن عربی زبان میں سینگ کو بھی کہتے ہیں اور زمانہ یا دور کو بھی۔ اس کا ایک مفہوم تو اوپر بیان ہوا کہ اس کے مفتوحہ علاقوں یا سلطنت کا اگر کاغذ پر نقشہ بنایا جائے تو اس کی شکل ایک مینڈھے کی سی بن جاتی ہے جس کے سر پر دو سینگ ہوں۔ اس کی دوسری توجیہ یہ بیان کی گئی ہے کہ ذو القرنین کے تاج میں دو کلغیاں ہوتی تھیں جبکہ عام بادشاہوں کے تاج میں ایک ہی کلغی ہوتی تھی اور یہ دو کلغیاں بھی اس کی سلطنت کی وسعت کے اظہار کے لیے بنائی گئی تھیں۔ اور تیسری توجیہ یہ ہے کہ ذو القرنین کو دو دور نصیب ہوئے تھے ایک دور فتوحات کا اور دوسرا دور ان مفتوحہ علاقوں میں انتظام اور حکمرانی کرنے کا اور یہ بات بھی ہر بادشاہ کو نصیب نہیں ہوئی۔ سکندر رومی فیلقوس کے بیٹے نے فتوحات تو بہت کیں حتیٰ کہ ہندوستان میں بھی پہنچ کر بہت سے علاقے فتح کیے مگر اس کی فوج نے آگے بڑھنے سے یکسر انکار کر دیا اور وطن واپس چلنے پر اصرار کیا اور سکندر اپنی فوج کے سامنے مجبور ہو گیا اور واپسی پر اپنے وطن پہنچنے سے پیشتر ہی 33 سال کی عمر میں بابل کے مقام پر راہی ملک عدم ہوا۔
سد ذو القرنین کہاں واقع ہے؟
رہی یہ بات کہ سد ذو القرنین کہاں واقع ہے؟ تو اس میں بھی اختلافات ہیں کیونکہ آج تک ایسی پانچ دیواریں معلوم ہو چکی ہیں جو مختلف بادشاہوں نے مختلف علاقوں میں مختلف ادوار میں جنگجو قوموں کے حملہ سے بچاؤ کی خاطر بنوائی تھیں۔ ان میں سے زیادہ مشہور دیوار چین ہے یہ دیوار سب سے زیادہ لمبی ہے اور اس کی لمبائی کا اندازہ بارہ سو میل سے لے کر پندرہ سو میل تک کیا گیا ہے یہ دیوار عجائب روزگار میں شمار ہوتی ہے اور اب تک موجود ہے اور اسے چی وانگئی فغفور چین نے اندازاً 235 قم میں تعمیر کروایا تھا اور سد ذو القرنین وہ دیوار ہے جو جبل الطائی کے کسی درہ کو بند کیے ہوئے ہے جس کا ابن خلدون نے بھی ذکر کیا ہے اور اکثر مورخین اسلام اس کو سد یاجوج بھی کہتے ہیں۔ جبل الطائی منچوریا اور منگولیا میں حائل ہے اور اسی پہاڑ کے بیچ میں ایک درہ کشادہ تھا جہاں یاجوج ماجوج کی قومیں حملہ آور ہوتی تھیں۔ اس درے کو ذو القرنین حمیری بادشاہ نے بند کروایا تھا اور یہ دیوار اب تک موجود ہے۔ ذو القرنین کے تین سفروں کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔