54۔ اور ہم نے قرآن میں لوگوں کو طرح طرح کی مثالوں سے سمجھایا ہے مگر انسان اکثر باتوں [52] میں جھگڑالو واقع ہوا ہے۔
[52] انسان فطرتاً جھگڑالو واقع ہوا ہے۔ مشیئت الٰہی کو بہانہ بنانا:۔
انسان کی ہدایت کے لیے اس کی عقل اور اس کے دل کو اپیل کرنے والی بہت سے دلیلیں مختلف پیرا یوں میں اور دل نشین انداز میں بیان کر دی ہیں مگر انسان کچھ اس طرح کا جھگڑالو اور ہٹ دھرم واقع ہوا ہے کہ جس بات کو نہ ماننے کا تہیہ کر لے اس پر کئی طرح کے اعتراض وارد کر سکتا ہے۔ جھوٹے دلائل اور حیلوں بہانوں سے جواب پیش کر سکتا ہے۔ بات کا موضوع ہی بدل کر گندم کا جواب چنے میں دے سکتا ہے مگر حقیقت کو قبول کر لینا گوارا نہیں کرتا اور انسان کی یہ سرشت صرف ضدی، ہٹ دھرم اور مجرم قسم کے لوگوں میں نہیں ہوتی بلکہ بعض دفعہ ایک نیکو کار مومن بھی اپنے آپ کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے کوئی عذر تلاش کر لیتا ہے۔ چنانچہ سیدنا علیؓ فرماتے ہیں کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے اور ہم دونوں (میں اور فاطمہ) کو مخاطب کر کے کہا کہ ”تم لوگ تہجد کی نماز کیوں نہیں پڑھتے“ میں نے جواب دیا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے نفس اللہ کے ہاتھ میں ہیں وہ چاہے گا کہ ہم اٹھیں تو اٹھ جائیں گے“ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوراً واپس ہو گئے اور اپنی ران پر ہاتھ رکھ کر فرمایا:﴿ وَكَانَالْاِنْسَانُاَكْثَرَشَيْءٍجَدَلًا﴾[بخاري، كتاب التهجد۔ باب تحريض النبى على قيام الليل والنوافل] گویا سیدنا علیؓ نے اپنے قصور کا اعتراف کرنے کی بجائے مشیئت الٰہی کا عذر پیش کر دیا اور اس اختیار کی طرف توجہ نہ کی جو انھیں اور ہر انسان کو عطا کیا گیا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔