تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ كَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا:} یعنی جو چیزیں جھگڑا کر سکتی ہیں انسان ان میں سب سے زیادہ جھگڑنے والا ہے، اس لیے خواہ مخواہ حیل و حجت کیے جاتا ہے اور حق بات کی طرف نہیں آتا۔ قرآن میں جا بجا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے انبیاء کے ساتھ کفار کے جھگڑے مذکور ہیں۔ جھگڑے کی ایک مثال سورۂ زخرف (۵۷، ۵۸) میں دیکھیے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
گویا سیدنا علیؓ نے اپنے قصور کا اعتراف کرنے کی بجائے مشیئت الٰہی کا عذر پیش کر دیا اور اس اختیار کی طرف توجہ نہ کی جو انھیں اور ہر انسان کو عطا کیا گیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن عظمة القرآن وجلالته وعُمومه، وأنَّه صرَّف فيه {من كلِّ مَثَل}؛ أي: من كلِّ طريق موصل إلى العلوم النافعة والسعادة الأبديَّة وكل طريق يعصِمُ من الشرِّ والهلاك؛ ففيه أمثالُ الحلال والحرام، وجزاء الأعمال، والترغيب والترهيب، والأخبار الصادقة النافعة للقلوب؛ اعتقاداً وطمأنينةً ونوراً، وهذا مما يوجب التسليم لهذا القرآن وتلقِّيه بالانقياد والطَّاعة وعدم المنازعة له في أمر من الأمور، ومع ذلك؛ كان كثير من الناس يجادلونَ في الحقِّ بعدما تبيَّن، ويجادلون بالباطل ليُدْحِضوا به الحقَّ، ولهذا قال: {وكانَ الإنسانُ أكثر شيءٍ جَدَلاً}؛ أي: مجادلةً ومنازعةً فيه، مع أنَّ ذلك غير لائقٍ بهم، ولا عدل منهم، والذي أوجب له ذلك، وعدم الإيمان بالله، إنَّما هو الظلم والعناد، لا لقصور في بيانِهِ وحجَّته وبرهانه، وإلاَّ؛ فلو جاءهم العذاب وجاءهم ما جاء قبلهم؛ لم تكن هذه حالهم، ولهذا قال: