ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الكهف (18) — آیت 28

وَ اصۡبِرۡ نَفۡسَکَ مَعَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَدٰوۃِ وَ الۡعَشِیِّ یُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَہٗ وَ لَا تَعۡدُ عَیۡنٰکَ عَنۡہُمۡ ۚ تُرِیۡدُ زِیۡنَۃَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ وَ لَا تُطِعۡ مَنۡ اَغۡفَلۡنَا قَلۡبَہٗ عَنۡ ذِکۡرِنَا وَ اتَّبَعَ ہَوٰىہُ وَ کَانَ اَمۡرُہٗ فُرُطًا ﴿۲۸﴾
اور اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ روکے رکھ جو اپنے رب کو پہلے اور پچھلے پہر پکارتے ہیں، اس کا چہرہ چاہتے ہیں اور تیری آنکھیں ان سے آگے نہ بڑھیں کہ تو دنیا کی زندگی کی زینت چاہتا ہو اور اس شخص کا کہنا مت مان جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور اس کا کام ہمیشہ حد سے بڑھا ہوا ہے۔ En
اور جو لوگ صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے اور اس کی خوشنودی کے طالب ہیں۔ ان کے ساتھ صبر کرتے رہو۔ اور تمہاری نگاہیں ان میں (گزر کر اور طرف) نہ دوڑیں کہ تم آرائشِ زندگانی دنیا کے خواستگار ہوجاؤ۔ اور جس شخص کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا کام حد سے بڑھ گیا ہے اس کا کہا نہ ماننا
En
اور اپنے آپ کو انہیں کے ساتھ رکھا کر جو اپنے پروردگار کو صبح شام پکارتے ہیں اور اسی کے چہرے کے ارادے رکھتے ہیں (رضامندی چاہتے ہیں)، خبردار! تیری نگاہیں ان سے نہ ہٹنے پائیں کہ دنیوی زندگی کے ٹھاٹھ کے ارادے میں لگ جا۔ دیکھ اس کا کہنا نہ ماننا جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کردیا ہے اور جو اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہے اور جس کا کام حد سے گزر چکا ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

28۔ اور اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ ہی مطمئن رکھئے جو صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اور اس کی رضا [28] چاہتے ہیں، آپ کی آنکھیں ان سے ہٹنے نہ پائیں کہ دنیوی زندگی کی زینت چاہنے لگیں۔ نہ ہی آپ ایسے شخص کی باتیں مانئے جس کا دل ہم نے اپنے ذکر سے غافل کر دیا ہے، وہ اپنی خواہش [29] پر چلتا ہے اور اس کا معاملہ حد سے بڑھا ہوا ہے۔
[28] غریب اور مخلص مومنوں سے آپ کو وابستہ رہنے کی ہدایت:۔
یہ صبح و شام اللہ کے ذکر میں مشغول رہنے والے اور اللہ کی رضا چاہنے والے لوگ بموجب روایات سیدنا بلال بن رباحؓ، سیدنا صہیب رومیؓ، سیدنا خباب بن الارتؓ، سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ اور سیدنا عمار بن یاسرؓ تھے جو سب کے سب غریب طبقہ سے تعلق رکھتے تھے اور ان میں سے اکثر سرداران قریش کے غلام یا آزاد کردہ غلام تھے جو اکثر اوقات آپ کی صحبت میں رہا کرتے تھے اب اونچی ناک والے قریشی سرداروں مثلاً عیینہ بن بدر اوراقرع بن حابس وغیرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا کرتے تھے کہ ہر وقت یہ رذیل قسم کے لوگ آپ کے پاس بیٹھے ہوتے ہیں تو ان کی موجودگی میں ہم کیسے ان کے ساتھ آپ کے پاس بیٹھیں۔ ممکن ہے آپ کے دل میں کچھ ایسا خیال آ بھی گیا ہو کہ یہ لوگ تو بہرحال خالص مومن ہیں۔ سرداروں کے آنے پر کچھ دیر انھیں الگ کر دینے سے اگر یہ قریشی سردار میری بات غور سے سن لینے اور ایمان لانے پر تیار ہو جائیں تو کیا حرج ہے؟ خصوصاً اس صورت میں کہ آپ ان قریشی سرداروں کے ایمان لانے پر حریص بھی تھے کہ اس طرح اسلام کو تقویت حاصل ہو گی لیکن اللہ تعالیٰ نے بروقت ہدایت فرما دی کہ ایسا خیال بھی دل میں نہ لائیے اپنا دل انہی غریب اور مخلص مومنوں کے ساتھ وابستہ رکھیے یہی لوگ قیمتی سرمایہ ہیں۔ قریشی سرداروں کے مطالبہ اور ان کی ٹھاٹھ باٹھ کی طرف مت دیکھئے کیونکہ ان کے اس مطالبہ سے ہی یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ ایمان لانے میں کس حد تک مخلص ہیں۔
[29] یعنی جو شخص آخرت میں اللہ کے سامنے جوابدہی پر ایمان ہی نہیں رکھتا وہ تو جدھر اور جس طرح اپنا ذاتی مفاد دیکھے گا فوراً ادھر جھک جائے گا اور جو کچھ اس کا جی چاہے گا وہی کچھ وہ کرے گا اس کا کوئی کام اصول کے تحت یا حد اعتدال تک محدود نہ رہے گا لہٰذا ایسے لوگوں کی بات ہرگز نہ مانیے۔