ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الكهف (18) — آیت 102

اَفَحَسِبَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنۡ یَّتَّخِذُوۡا عِبَادِیۡ مِنۡ دُوۡنِیۡۤ اَوۡلِیَآءَ ؕ اِنَّـاۤ اَعۡتَدۡنَا جَہَنَّمَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ نُزُلًا ﴿۱۰۲﴾
تو کیا جن لوگوں نے کفر کیا انھوں نے گمان کر لیا ہے کہ وہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو حمایتی بنا لیں گے۔ بے شک ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے بطور مہمانی تیار کر رکھا ہے۔ En
کیا کافر یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہمارے بندوں کو ہمارے سوا (اپنا) کارساز بنائیں گے (تو ہم خفا نہیں ہوں گے) ہم نے (ایسے) کافروں کے لئے جہنم کی (مہمانی) تیار کر رکھی ہے
En
کیا کافر یہ خیال کیے بیٹھے ہیں؟ کہ میرے سوا وه میرے بندوں کو اپنا حمایتی بنا لیں گے؟ (سنو) ہم نے تو ان کفار کی مہمانی کے لئے جہنم کو تیار کر رکھا ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

102۔ کیا کافروں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو ہی کارساز بنا لیں؟ [84] ہم نے ایسے کافروں کی مہمانی کے لئے جہنم تیار کر رکھی ہے
[84] یہاں کچھ عبارت محذوف ہے جسے مخاطب کے فہم پر چھوڑ دیا گیا ہے یعنی کافروں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو کارساز بنا لیں تو وہ انھیں اللہ کی گرفت سے بچا سکیں گے بات یوں نہیں بلکہ ہم ایسے کافروں کی جہنم کی آگ سے مہمانی کریں گے جو ان کے وہاں پہنچتے ہی انھیں مل جائے گی۔ دوسری قابل غور بات یہ ہے اس آیت میں عبادی کے لفظ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس سے ایسے کارساز مراد ہیں جو ذوی العقول ہوں جیسے فرشتے، جن، نیک یا بد ارواح، فوت شدہ انسان، پیغمبر یا پیران طریقت اور اصطلاحی اولیاء اللہ وغیرہم۔ کیونکہ بے جان اشیاء مثلاً بتوں اور حجرو شجر وغیرہ پر لفظ عبد کا اطلاق نہیں ہوتا۔