ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الكهف (18) — آیت 1

اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ عَلٰی عَبۡدِہِ الۡکِتٰبَ وَ لَمۡ یَجۡعَلۡ لَّہٗ عِوَجًا ؕ﴿ٜ۱﴾
سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی اور اس میں کوئی کجی نہ رکھی۔ En
سب تعریف خدا ہی کو ہے جس نے اپنے بندے (محمدﷺ) پر (یہ) کتاب نازل کی اور اس میں کسی طرح کی کجی (اور پیچیدگی) نہ رکھی
En
تمام تعریفیں اسی اللہ کے لئے سزاوار ہیں جس نے اپنے بندے پر یہ قرآن اتارا اور اس میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

[1] سب تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے اپنے [1۔ 1] بندے پر یہ کتاب (قرآن) نازل کی اور اس میں کوئی کجی نہیں رکھی۔
[1] سورۃ کہف کی فضیلت میں مندرجہ ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے:
1۔ براء بن عازب کہتے ہیں کہ ایک شخص رات کو گھر میں یہ سورت پڑھ رہا تھا اور گھوڑا بھی وہیں بندھا ہوا تھا گھوڑا بدکنے لگا۔ اس نے اوپر جو سر اٹھا کر دیکھا تو ایک نور دکھائی دیا جو بادل کی طرح سایہ کیے ہوئے تھا صبح اس نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا یہ سکینہ (نور اطمینان) ہے جو اس کے پڑھنے سے نازل ہوئی تھی۔ [ترمذي، ابواب فضائل القرآن۔ باب ماجاء فى سورة كهف]
اس واقعہ کو بخاری اور مسلم نے بھی روایت کیا ہے۔
2۔ سیدنا ابو الدرداءؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: جو شخص اس سورۃ کی ابتدائی تین آیات پڑھتا رہے وہ فتنہ دجال سے محفوظ رہے گا۔ [ترمذي، ابواب فضائل القرآن۔ باب ماجاء فى سورة الكهف]
اور مسلم میں اس طرح ہے کہ جو شخص سورۃ کہف کی ابتدائی دس آیات یاد کرے وہ دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا۔ [مسلم بحواله مشكوٰة۔ كتاب فضائل القرآن۔ پهلي فصل]
3۔ ابو سعیدؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن سورۃ کہف پڑھے دو جمعوں کے درمیان اس کے لیے نور روشن ہو جاتا ہے۔ [بيهقي فى الدعوات الكبير۔ بحواله مشكوة كتاب فضائل القرآن۔ تيسري فصل]
[1۔ 1] یعنی اللہ تعالیٰ کے مستحق حمد و ثنا ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس نے ایسی کتاب نازل فرمائی ہے جو اپنے مطالب صاف صاف بیان کرتی ہے نہ اس کے مطالب میں کوئی پیچ و خم ہے اور نہ اس کے انداز بیان میں کوئی پیچیدگی یا الجھاؤ ہے۔