ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 76

وَ اِنۡ کَادُوۡا لَیَسۡتَفِزُّوۡنَکَ مِنَ الۡاَرۡضِ لِیُخۡرِجُوۡکَ مِنۡہَا وَ اِذًا لَّا یَلۡبَثُوۡنَ خِلٰفَکَ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۷۶﴾
اور بے شک وہ قریب تھے کہ تجھے ضرور ہی اس سرزمین سے پھسلا دیں، تاکہ تجھے اس سے نکال دیں اور اس وقت وہ تیرے بعد نہیں ٹھہریں گے مگر کم ہی۔ En
اور قریب تھا کہ یہ لوگ تمہیں زمین (مکہ) سے پھسلا دیں تاکہ تمہیں وہاں سے جلاوطن کر دیں۔ اور اس وقت تمہارے پیچھے یہ بھی نہ رہتے مگر کم
En
یہ تو آپ کے قدم اس سرزمین سے اکھاڑنے ہی لگے تھے کہ آپ کو اس سے نکال دیں۔ پھر یہ بھی آپ کے بعد بہت ہی کم ٹھہر پاتے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

76۔ قریب تھا کہ یہ لوگ آپ کو اس سرزمین (مکہ) سے دل برداشتہ کر دیں تاکہ آپ کو یہاں [94] سے نکال دیں۔ اور ایسی صورت میں آپ کے بعد یہ لوگ بھی یہاں زیادہ دیر نہ ٹھہر سکیں گے۔
[94] ہجرت کے ساتھ ہی کفار مکہ کے زوال کا آغاز:۔
جن ایام میں یہ آیت نازل ہوئی اس وقت مسلمانوں پر کفار مکہ کا تشدد اپنی انتہا کو پہنچ گیا تھا ان ایام میں ایسی آیت کا نزول کفار مکہ کے حق میں ایک صریح پیشین گوئی تھی جسے انہوں نے اپنی طاقت کے نشہ میں محض ایک دھمکی ہی سمجھا جیسا کہ دوسری عذاب کی آیات متعلقہ اقوام سابقہ میں بھی ایسے اشارات پائے جاتے تھے مگر آنے والے حالات اور واقعات نے اس پیشین گوئی کو حرف بحرف سچا ثابت کر دیا۔ اس آیت کے نزول کے ایک سال بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کو چھوڑنے اور مدینہ کی طرف ہجرت کر جانے پر مجبور ہو گئے۔ اس کے بعد قریش کی طاقت میں دم بدم زوال آنا شروع ہوا اور صرف آٹھ سال بعد معاملہ بالکل الٹ ہو گیا۔ ظلم و تشدد کرنے والے خود محکوم بن گئے اور پیغمبر اسلام سے رحم کی التجا پر مجبور ہو گئے۔ بعد میں اکثر لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔ حتیٰ کہ مزید دو سال بعد سرزمین عرب کفر و شرک کی نجاست سے پاک ہو گئی۔