اور ان میں سے جس کو تو اپنی آواز کے ساتھ بہکا سکے بہکا لے اور اپنے سوار اور اپنے پیادے ان پر چڑھا کر لے آ اور اموال اور اولاد میں ان کا حصہ دار بن اور انھیں وعدے دے اور شیطان دھوکا دینے کے سوا انھیں وعدہ نہیں دیتا۔
En
اور ان میں سے جس کو بہکا سکے اپنی آواز سے بہکاتا رہ۔ اور ان پر اپنے سواروں اور پیاروں کو چڑھا کر لاتا رہ اور ان کے مال اور اولاد میں شریک ہوتا رہ اور ان سے وعدے کرتا رہ۔ اور شیطان جو وعدے ان سے کرتا ہے سب دھوکا ہے
ان میں سے تو جسے بھی اپنی آواز سے بہکا سکے بہکا لے اور ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھا ﻻ اور ان کے مال اور اوﻻد میں سے اپنا بھی ساجھا لگا اور انہیں (جھوٹے) وعدے دے لے۔ ان سے جتنے بھی وعدے شیطان کے ہوتے ہیں سب کے سب سراسر فریب ہیں
En
64۔ اور انھیں گھبراہٹ میں ڈال جنہیں تو اپنی آواز [80] سے گھبراہٹ میں ڈال سکے، اپنے سوار اور پیادے [81] ان پر چڑھا لا، مال اور اولاد [82] میں ان کا شریک بن اور ان سے وعدہ کر۔ اور شیطان جو بھی وعدہ کرتا ہے [83] وہ بس دھوکا ہی ہوتا ہے۔
[80] شیطان کی آواز سے مراد:۔
شیطان کی آواز سے مراد ہر وہ پکار ہے جو اسے اللہ کی نافرمانی پر اکساتی ہو اور یہ آواز عموماً شیطانوں کے چیلوں چانٹوں ہی سے آتی ہے پھر اس شیطانی آواز میں ہر قسم کا گالی گلوچ، لڑائی جھگڑا، گانا بجانا، موسیقی، راگ رنگ اور مزامیر طرب و نشاط کی محفلیں سب کچھ آتا ہے جو اللہ کی یاد سے انسان کو غافل بنائے رکھتی ہیں اور اس کی اصل فطرت پر پردہ ڈالے رکھتی ہیں۔ [81] یعنی تجھے اس بات کی بھی اجازت ہے کہ ڈاکوؤں کی طرح اپنی پوری جمعیت کے ساتھ۔ خواہ وہ انسانوں سے تعلق رکھتی ہو یا جنوں اور شیطانوں سے، اولاد آدم پر پوری شان و شوکت کے ساتھ حملہ آور ہو اور ان میں جس قدر تباہی اور گمراہی مچا سکتا ہے مچا لے۔
[82] شیطان کی مال و اولاد میں شرکت کی صورتیں:۔
یعنی مال کمانے کے جتنے ناجائز ذرائع انسان اختیار کرتا ہے وہ سب شیطانی انگیخت اور اس کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے کرتا ہے۔ اور حرام خور انسان شیطان کے مشورے ایسے قبول کرتا ہے جیسے شیطان بھی اس کے کام کاج میں شریک ہے۔ پھر شیطان تو انسان کو یہ راہ دکھا کر الگ ہو جاتا ہے اور سارا گناہ کا بار بنی آدم پر پڑ جاتا ہے۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جیسے مشرکین مکہ اپنے اموال کھیتی اور چوپایوں میں سے اللہ کا حصہ الگ نکالتے تھے اور اپنے بتوں کا الگ۔ اسی طرح جو مال بھی بتوں کے چڑھاوے، قربانی یا غیر اللہ کی نذر و نیاز کے طور پر دیا جاتا ہے وہ سب بنی آدم کے اموال میں شیطان کی شراکت ہے۔ اور اولاد میں شراکت یہ ہے کہ اولاد تو اللہ تعالیٰ عطا فرمائے اور اس کا نام پیراں دتہ، غوث بخش، عبد النبی، میراں بخش، یا اسی قسم کے دوسرے شرکیہ نام رکھ کر اولاد کو غیر اللہ کی طرف منسوب کیا جائے یا اولاد کے لیے اللہ کے سوا دوسروں کے در پر جائے اور ان کے ہاں قربانیاں اور نذر و نیاز دے۔
[83] شیطان کے وعدے:۔
شیطان کے وعدوں اور ان وعدوں کی حقیقت کے لیے سورۃ ابراہیم کی آیت نمبر 22 کے حواشی ملاحظہ فرمائیے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔