ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 52

یَوۡمَ یَدۡعُوۡکُمۡ فَتَسۡتَجِیۡبُوۡنَ بِحَمۡدِہٖ وَ تَظُنُّوۡنَ اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿٪۵۲﴾
جس دن وہ تمھیں بلائے گا تو تم اس کی تعریف کرتے ہوئے چلے آؤ گے اور سمجھو گے کہ تم نہیں رہے مگر تھوڑا۔ En
جس دن وہ تمہیں پکارے گا تو تم اس کی تعریف کے ساتھ جواب دو گے اور خیال کرو گے کہ تم (دنیا میں) بہت کم (مدت) رہے
En
جس دن وه تمہیں بلائے گا تم اس کی تعریف کرتے ہوئے تعمیل ارشاد کرو گے اور گمان کرو گے کہ تمہارا رہنا بہت ہی تھوڑا ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

52۔ جس دن وہ تمہیں بلائے گا تو تم اس کی تعریف کرتے ہوئے [63] پکار کے جواب میں حاضر ہو جاؤ گے اور یہ خیال کر رہے ہو گے کہ تم (دنیا میں) تھوڑی ہی دیر ٹھہرے تھے۔
[63] یعنی جب قیامت آگئی اور اللہ نے تمہیں زندہ کر کے اٹھ کھڑا ہونے اور اپنے پاس حاضر ہونے کا حکم دے دیا تو تم بلا چون و چرا اس کے سامنے از خود حاضر ہو جاؤ گے اور یہ سب باتیں تمہیں بھول جائیں گی۔ پھر اس دن چونکہ سب حجابات اٹھ جائیں گے اور ہر انسان یہ دیکھ رہا ہو گا کہ قادر مطلق تو صرف ایک اللہ کی ذات ہے لہٰذا تم صرف اللہ کی پکار پر حاضر ہی نہ ہو گے بلکہ اس کی تعریف کے گن گاتے حاضر ہو گے اور اس دن یہ دنیا کی زندگی تمہیں بس ایک سہانا خواب ہی معلوم ہو گی۔