ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 42

قُلۡ لَّوۡ کَانَ مَعَہٗۤ اٰلِـہَۃٌ کَمَا یَقُوۡلُوۡنَ اِذًا لَّابۡتَغَوۡا اِلٰی ذِی الۡعَرۡشِ سَبِیۡلًا ﴿۴۲﴾
کہہ دے اگر اس کے ساتھ کچھ اور معبود ہوتے، جیسا کہ یہ کہتے ہیں تو اس وقت وہ عرش والے کی طرف کوئی راستہ ضرور ڈھونڈتے۔ En
کہہ دو کہ اگر خدا کے ساتھ اور معبود ہوتے جیسا کہ یہ کہتے ہیں تو وہ ضرور (خدائے) مالک عرش کی طرف (لڑنے بھڑنے کے لئے) رستہ نکالتے
En
کہہ دیجیئے! کہ اگر اللہ کے ساتھ اور معبود بھی ہوتے جیسے کہ یہ لوگ کہتے ہیں تو ضرور وه اب تک مالک عرش کی جانب راه ڈھونڈ نکالتے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

42۔ آپ ان سے کہئے کہ: اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور بھی الٰہ ہوتے، جیسا کہ یہ مشرک کہتے ہیں، تو وہ اللہ صاحب عرش (سے مقابلہ اور وہاں تک پہنچنے) کے لئے ضرور کوئی راہ تلاش [52] کرتے۔
[52] زیادہ خداؤں کا لازمی نتیجہ:۔
اس آیت میں خطاب ان خاص قسم کے مشرکوں سے ہے جنہوں نے بے شمار دیوتا اور دیویاں تجویز کر رکھی ہیں اور انھیں کسی نہ کسی چیز کا مختار تسلیم کیا جاتا ہے مثلاً فلاں بارش کا دیوتا ہے، فلاں پھلوں کا دیوتا ہے۔ فلاں مال و دولت کی دیوی ہے اور فلاں محبت کی، فلاں موت کا دیوتا ہے اور فلاں زندگی کا۔ اس عقیدہ کی تردید کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ اگر یہ دیوتا اپنے اپنے اختیارات استعمال کریں تو کائنات کا سارا نظام ہی درہم برہم ہو جائے مثلاً قحط کا دیوتا بارش روکنا چاہے اور بارش کا برسانا چاہے تو ان کی ضد بازی سے کائنات کا نظام اور اس میں ہم آہنگی برقرار ہی نہیں رہ سکتی۔ لیکن یہاں جس پہلو کو اجاگر کیا جا رہا ہے وہ دوسرا پہلو ہے جو یہ ہے کہ ہر صاحب اختیار کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ اس کے اختیارات میں مزید وسعت پیدا ہو جائے بلکہ ہر صاحب اختیار کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ پورا اختیار و اقتدار کسی طرح اسے ہی حاصل ہو جائے۔ اب ایسے چھوٹے صاحب اختیار بڑے اختیار والے کے خلاف متحدہ محاذ بنا لیتے ہیں تاکہ اسے اقتدار سے محروم کر دیں۔ جیسا کہ آج کل کے جمہوری نظام میں یہ تماشا سرسری نگاہوں سے ہی دیکھا جا سکتا ہے۔ جو سیاسی پارٹی برسر اقتدار ہوتی ہے۔ حزب اختلاف کی سب پارٹیاں مل کر صاحب اقتدار پارٹی کی ٹانگ کھینچنا اور اسے اقتدار سے محروم کرنا چاہتی ہیں اور بسا اوقات وہ اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہو جاتی ہیں یہی مثال اللہ تعالیٰ نے یہاں بیان فرمائی ہے کہ اگر فی الواقع اللہ کے علاوہ کوئی اور بھی دیوتا یا دیویاں با اختیار موجود ہوتے تو وہ یقیناً بڑے اختیار والے اللہ یا مہادیو کو اقتدار و اختیار سے محروم کرنے کی ضرور کوشش کرتے اور چونکہ فی الواقع ایسا کبھی نہیں ہوا تو اس کا واضح نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جن معبودوں کو تم نے صاحب اختیار سمجھ رکھا ہے وہ صاحب اختیار نہیں ہیں۔ اور ان کا وجود اس کائنات میں ہونا نا ممکن ہے۔