ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 34

وَ لَا تَقۡرَبُوۡا مَالَ الۡیَتِیۡمِ اِلَّا بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ حَتّٰی یَبۡلُغَ اَشُدَّہٗ ۪ وَ اَوۡفُوۡا بِالۡعَہۡدِ ۚ اِنَّ الۡعَہۡدَ کَانَ مَسۡـُٔوۡلًا ﴿۳۴﴾
اور یتیم کے مال کے قریب نہ جائو، مگر اس طریقے سے جو سب سے اچھا ہو، یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے اور عہد کو پورا کرو، بے شک عہد کا سوال ہوگا۔ En
اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ پھٹکنا مگر ایسے طریق سے کہ بہت بہتر ہو یہاں تک کہ ہو جوانی کو پہنچ جائے۔ اور عہد کو پورا کرو کہ عہد کے بارے میں ضرور پرسش ہوگی
En
اور یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ بجز اس طریقہ کے جو بہت ہی بہتر ہو، یہاں تک کہ وه اپنی بلوغت کو پہنچ جائے اور وعدے پورے کرو کیونکہ قول وقرار کی باز پرس ہونے والی ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

34۔ اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر اس صورت میں کہ وہ بہتر ہو، تا آنکہ وہ اپنی جوانی [42] کو پہنچ جائے اور عہد کی پابندی کرو کیونکہ عہد کے بارے میں تم سے [43] باز پرس ہو گی۔
[42] یتیم کے مال کی نگہداشت اور اس کے حقوق کے لیے سورۃ نساء آیت نمبر 1 تا 6 اور سورۃ انعام کی آیت نمبر 152 کے حواشی ملاحظہ کر لیے جائیں۔
[43] ایفائے عہد کے سلسلہ میں سورۃ اعراف آیت نمبر 102 اور نحل آیت نمبر 91، 92 کے حواشی ملاحظہ فرمائیے۔