ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 11

وَ یَدۡعُ الۡاِنۡسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَہٗ بِالۡخَیۡرِ ؕ وَ کَانَ الۡاِنۡسَانُ عَجُوۡلًا ﴿۱۱﴾
اور انسان برائی کی دعا کرتا ہے اپنے بھلائی کی دعا کرنے کی طرح اور انسان ہمیشہ سے بہت جلد باز ہے۔ En
اور انسان جس طرح (جلدی سے) بھلائی مانگتا ہے اسی طرح برائی مانگتا ہے۔ اور انسان جلد باز (پیدا ہوا) ہے
En
اور انسان برائی کی دعائیں مانگنے لگتا ہے بالکل اس کی اپنی بھلائی کی دعا کی طرح، انسان ہے ہی بڑا جلد باز En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

11۔ انسان برائی کے لئے بھی ایسے ہی دعا کرتا ہے جیسے بھلائی کے لئے کرتا ہے در اصل انسان بڑا جلد باز [10] واقع ہوا ہے۔
[10] انسان کی جلد باز طبیعت اور اس کا نقصان:۔
اس آیت میں انسان کی اس فطرت کو بیان کیا گیا ہے کہ جب اسے کوئی سانحہ پیش آتا ہے تو فوراً بد دعا دینا شروع کر دیتا ہے خواہ وہ بددعا اس کے دشمنوں کے حق میں ہو یا اس کے اپنے حق میں ہو یا اپنی اولاد وغیرہ کے حق میں ہو۔ پھر وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ اس کی یہ بددعا جلد قبول ہو جائے۔ حالانکہ بعد میں خود اسے احساس ہو جاتا ہے کہ اگر اس کی بددعا قبول ہو جاتی تو اس کا اسے کتنا زیادہ نقصان پہنچ سکتا تھا جیسا کہ ابو جہل نے اپنے حق میں بددعا کی تھی کہ اے اللہ! اگر یہ نبی اور یہ قرآن برحق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا۔ اسی طرح مسلمان بھی کفار مکہ سے سختیاں برداشت کرنے پر بعض دفعہ بددعا کیا کرتے تھے۔ حالانکہ انھیں لوگوں میں سے اکثر بعد میں ایمان لے آئے تھے۔ اسی طرح بعض دفعہ انسان تنگ آ کر اپنی اولاد کے حق میں بددعا کر بیٹھتا ہے حالانکہ اگر اس کی دعا قبول ہو جاتی تو اسے اس وقت سے بہت زیادہ صدمہ پہنچتا جس وقت اس نے یہ بددعا مانگی تھی۔ گویا انسان کی جلد باز طبیعت اکثر اوقات نقصان دہ ہی ثابت ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اللہ کے کاموں میں تدریج اور امہال کا قانون جاری و ساری ہے جس میں طرح طرح کی حکمتیں پوشیدہ ہیں۔