ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النحل (16) — آیت 84

وَ یَوۡمَ نَبۡعَثُ مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍ شَہِیۡدًا ثُمَّ لَا یُؤۡذَنُ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ لَا ہُمۡ یُسۡتَعۡتَبُوۡنَ ﴿۸۴﴾
اور جس دن ہم ہر امت میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے، پھر ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا، نہ اجازت دی جائے گی اور نہ ان سے معافی کی درخواست لی جائے گی۔ En
اور جس دن ہم ہر اُمت میں سے گواہ (یعنی پیغمبر) کھڑا کریں گے تو نہ تو کفار کو (بولنے کی) اجازت ملے گی اور نہ اُن کے عذر قبول کئے جائیں گے
En
اور جس دن ہم ہر امت میں سے گواه کھڑا کریں گے پھر کافروں کو نہ اجازت دی جائے گی اور نہ ان سے توبہ کرنے کو کہا جائے گا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

84۔ اور جس دن ہم ہر امت میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے تو پھر کافروں کو نہ تو (عذر پیش کرنے کی) اجازت [86] دی جائے گی اور نہ ہی توبہ کا موقع دیا جائے گا
[86] قیامت کا ایک منظر مشرکوں کی ایک دوسرے کے خلاف گفتگو:۔
اس سے آگے اب میدان محشر کا ایک منظر پیش کیا جا رہا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی عدالت قائم ہو گی تو ہر امت اور ہر فرقہ سے ایک گواہ سامنے لایا جائے گا۔ ہر امت میں سے گواہ اس امت کا نبی ہو گا یا پھر وہ نیک بندہ جس نے اللہ کا پیغام پوری وضاحت کے ساتھ لوگوں کو پہنچا دیا ہو۔ گواہوں کی یہ گواہی کافروں پر اتمام حجت کے لیے ہو گی اور مفصل ہو گی۔ یعنی وہ گواہ یہ گواہی دے گا کہ فلاں فلاں لوگوں نے میری بات تسلیم کر لی تھی اور فلاں فلاں لوگ اکڑ گئے تھے۔ اور انہوں نے راہ حق کی مخالفت میں یہ اور یہ کام کیے تھے اور ہمیں ایسا اور ایسا جواب دیا کرتے تھے۔ اس گواہی کے دوران کافروں کو بولنے کی قطعاً اجازت نہ ہو گی۔ اور کافر جب میدان محشر کا یہ ہولناک منظر دیکھیں گے تو اپنے گناہوں کی معافی مانگنا چاہیں گے مگر اس وقت انھیں توبہ کا موقع نہیں دیا جائے گا کیونکہ توبہ کا موقع تو صرف اس دنیا میں ہے اور جب موت کی آخری ہچکی آجائے اور جان لبوں پر آئے تو اس لمحہ سے توبہ کا وقت ختم ہو جاتا ہے۔