تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { ثُمَّ لَا يُؤْذَنُ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا:} پھر کافروں کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ کس چیز کی؟ دوسری جگہ اس کی وضاحت آئی ہے، اس میں سے ایک تو یہ ہے کہ اس دن نہ وہ بول سکیں گے اور نہ انھیں عذر کرنے کی اجازت دی جائے گی، جیسے فرمایا: «{ هٰذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُوْنَ (35) وَ لَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُوْنَ۠ }» [المرسلات: ۳۵، ۳۶] ”یہ دن ہے کہ نہ وہ بولیں گے اور نہ انھیں اجازت دی جائے گی کہ وہ عذر کریں۔“ دوسری یہ کہ جب وہ کہیں گے: «{ رَبِّ ارْجِعُوْنِ (99) لَعَلِّيْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِيْمَا تَرَكْتُ }» [المؤمنون: ۹۹، ۱۰۰] (اے میرے رب! مجھے واپس بھیجو، تاکہ میں جو کچھ چھوڑ آیا ہوں اس میں کوئی نیک عمل کر لوں) تو انھیں واپس جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، کیونکہ واپس جانے پر بھی وہ وہی کچھ کریں گے جو پہلے کرتے رہے ہیں۔ (دیکھیے انعام: ۲۸) قرآن کی بلاغت دیکھیے، یہ فرمایا کہ اجازت نہیں دی جائے گی، یہ ذکر نہیں کیا کہ کس چیز کی؟ کیونکہ وہ کئی چیزیں ہیں۔
➌ { وَ لَا هُمْ يُسْتَعْتَبُوْنَ: ”عَتَبَ يَعْتُبُ عَتْبًا“} (ن، ض) ناراض ہونا۔ {”أَعْتَبَ يُعْتِبُ“} ناراضگی دور کرنا۔ {”اَلْعُتْبٰي“} راضی کرنا، منانا۔ {”اِسْتَعْتَبَ فُلَانٌ فُلَانًا“} یعنی فلاں نے دوسرے پر اپنی ناراضگی ظاہر کی، تاکہ وہ اس کی ناراضگی دور کر سکے، یا معافی مانگ سکے۔{” يُسْتَعْتَبُوْنَ“} کا مطلب یہ ہے کہ ان کے سامنے اس لیے ناراضگی کا اظہار نہیں کیا جائے گا کہ وہ معافی کی درخواست کرکے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی دور کر سکیں، یعنی انھیں اللہ کو راضی کرنے کی درخواست کا موقع ہی نہیں دیا جائے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سورۃ والمرسلات میں بھی یہی فرمان ہے کہ «هَذَا يَوْمٌ لَا يَنْطِقُونَ وَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُونَ» ۱؎ [77-المرسلات:36-35] ’ اس دن نہ وہ بولیں گے، نہ انہیں کسی عذر کی اجازت ملے گی ‘۔
مشرکین عذاب دیکھیں گے لیکن پھر کوئی کمی نہ ہوگی ایک ساعت بھی عذاب ہلکا نہ ہوگا نہ انہیں کوئی مہلت ملے گی اچانک پکڑ لیے جائیں گے۔ جہنم آ موجود ہوگی جو ستر ہزار لگاموں والی ہوگی۔ جس کی ایک لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2842] اس میں سے ایک گردن نکلے گی جو اس طرح پھن پھیلائے گی کہ تمام اہل محشر خوف زدہ ہو کر بل گر پڑیں گے۔
اس وقت جہنم اپنی زبان سے باآواز بلند اعلان کرے گی کہ میں اس ہر ایک سرکش ضدی کے لیے مقرر کی گئی ہوں۔ جس نے اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کیا ہو اور ایسے ایسے کام کئے ہوں چنانچہ وہ کئی قسم کے گنہگاروں کا ذکر کرے گی۔
اور آیت میں ہے «وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَلَمْ يَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا» ۱؎ [18-الكهف:53] ’ گنہگار جہنم کو دیکھ کر سمجھ لیں گے کہ وہ اس میں جھونک دئے جائیں گے لیکن کوئی بچاؤ نہ پائیں گے ‘۔
اور آیت میں ہے «لَوْ يَعْلَمُ الَّذِينَ كَفَرُوا حِينَ لَا يَكُفُّونَ عَن وُجُوهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَن ظُهُورِهِمْ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ بَلْ تَأْتِيهِم بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ رَدَّهَا وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:39-40] ’ کاش کہ کافر اس وقت کو جان لیتے جب کہ وہ اپنے چہروں پر سے اور اپنی کمروں پر سے جہنم کی آگ کو دور نہ کر سکیں گے نہ کسی کو مددگار پائیں گے اچانک عذاب الٰہی انہیں ہکا بکا کر دیں گے نہ انہیں ان کے دفع کرنے کی طاقت ہو گی نہ ایک منٹ کی مہلت ملے گی ‘۔
اس وقت ان کے معبودان باطل جن کی عمر بھر عبادتیں اور نذریں نیازیں کرتے رہے ان سے بالکل بے نیاز ہو جائیں گے اور ان کی احتیاج کے وقت انہیں مطلقا کام نہ آئیں گے۔ انہیں دیکھ کر یہ کہیں گے کہ اے اللہ یہ ہیں جنہیں ہم دنیا میں پوجتے رہے تو وہ کہیں گے جھوٹے ہو ہم نے کب تم سے کہا تھا کہ اللہ چھوڑ کر ہماری پرستش کرو؟ اسی کو جناب باری نے فرمایا آیت «وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» ۱؎ [46-الأحقاف:6-5] یعنی ’ اس سے زیادہ کوئی گمراہ نہیں جو اللہ کے سوا انہیں پکارتا ہے جو اسے قیامت تک جواب نہ دیں بلکہ وہ ان کے پکار نے سے بھی بے خبر ہوں اور حشر کے دن ان کے دشمن ہو جانے والے ہوں اور ان کی عبادت کا انکار کر جانے والے ہوں ‘۔
خلیل اللہ علیہ والسلام نے بھی یہی فرمایا کہ آیت «ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۡ وَّمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ» ۱؎ [29-العنكبوت:25] یعنی ’ قیامت کے دن ایک دوسروں کے منکر ہو جائیں گے ‘۔
اور آیت میں ہے کہ «وَيَوْمَ يَقُولُ نَادُوا شُرَكَائِيَ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيبُوا لَهُمْ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُم مَّوْبِقًا» [18-الکھف:52] ’ انہیں قیامت کے دن حکم ہوگا کہ اپنے شریکوں کو پکارو ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن حال هؤلاء الذين كفروا في يوم القيامة، وأنَّه لا يُقبل لهم عذرٌ ولا يُرْفَعُ عنهم العقاب، وأنَّ شركاءهم تتبرَّأ منهم، ويقرُّون على أنفسهم بالكفر والافتراء على الله، فقال: {ويومَ نبعثُ من كلِّ أمةٍ شهيداً}: يشهدُ عليها بأعمالهم وماذا أجابوا به الدَّاعي إلى الهدى، وذلك الشهيد الذي يبعثُهُ الله أزكى الشهداء وأعدلهم، وهم الرسل الذين إذا شهدوا؛ تمَّ عليهم الحكم. {ثم لا يؤذَنُ للذين كفروا}: في الاعتذار؛ لأنَّ اعتذارهم بعدما علموا يقيناً بطلانَ ما هم عليه اعتذارٌ كاذبٌ لا يفيدُهم شيئاً، وإنْ طَلَبوا أيضاً الرجوع إلى الدُّنيا ليستدركوا؛ لم يُجابوا ولم يُعْتَبوا، بل يبادِرُهم العذاب الشديد الذي لا يخفَّف عنهم من غير إنظارٍ ولا إمهالٍ من حين يرونه؛ لأنَّهم لا حسنات لهم، وإنَّما تعدُّ أعمالهم وتُحصى ويوقَفون عليها، ويُقَرَّرُون بها، ويُفْتَضَحون.