ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النحل (16) — آیت 43

وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ اِلَّا رِجَالًا نُّوۡحِیۡۤ اِلَیۡہِمۡ فَسۡـَٔلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکۡرِ اِنۡ کُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۴۳﴾
اور ہم نے تجھ سے پہلے نہیں بھیجے مگر مرد، جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے۔ سو ذکر والوں سے پوچھ لو، اگر تم شروع سے نہیں جانتے۔ En
اور ہم نے تم سے پہلے مردوں ہی کو پیغمبر بنا کر بھیجا تھا جن کی طرف ہم وحی بھیجا کرتے تھے اگر تم لوگ نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو
En
آپ سے پہلے بھی ہم مَردوں کو ہی بھیجتے رہے، جن کی جانب وحی اتارا کرتے تھے پس اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے دریافت کر لو En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

43۔ آپ سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے وہ آدمی ہی [44] ہوتے تھے جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے۔ لہذا اگر تم خود نہیں جانتے تو اہل علم سے پوچھ لو
[44] رسول اللہ کا بشر ہونا، تاریخی پہلو:۔
یہ بھی مشرکوں کے ایک اعتراض کا جواب ہے جو پہلے بھی کئی بار مذکور ہو چکا ہے کہ یہ نبی تو ہم جیسا ہی انسان ہے۔ ہماری طرح کھاتا، پیتا، چلتا، پھرتا اور عائلی زندگی گزارتا ہے آخر اس میں وہ کون سی امتیازی صفت ہے کہ ہم اسے اللہ کا رسول تسلیم کر لیں۔ اس اعتراض کے مختلف مقامات پر مختلف پہلوؤں سے جواب دیئے گئے ہیں۔ یہاں صرف تاریخی پہلو کے لحاظ سے جواب دیا جا رہا ہے کہ آپ سے پہلے جتنے بھی رسول آئے ہیں وہ سب انسان اور مرد ہی ہوا کرتے تھے۔ سیدنا آدمؑ، نوحؑ، ابراہیمؑ (جن کی اتباع کا مشرکین مکہ دعویٰ کرتے تھے)، اسحاقؑ، اسماعیلؑ، یعقوبؑ، یوسفؑ، موسیٰؑ، عیسیٰ وغیرہم سب کے سب انسان ہی تھے اور یہ بات تم جانتے بھی ہو اور اگر کچھ شک ہو تو اہل علم حضرات سے پوچھ لو جو سابقہ انبیاء سے اور ان کے حالات سے با خبر ہیں اور یہاں اہل علم سے مراد علمائے یہود و نصاریٰ ہیں۔ کہ آیا وہ بشر یا انسان ہی تھے یا کوئی اور قسم کی مخلوق تھے؟