ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الرعد (13) — آیت 30

کَذٰلِکَ اَرۡسَلۡنٰکَ فِیۡۤ اُمَّۃٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہَاۤ اُمَمٌ لِّتَتۡلُوَا۠ عَلَیۡہِمُ الَّذِیۡۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ وَ ہُمۡ یَکۡفُرُوۡنَ بِالرَّحۡمٰنِ ؕ قُلۡ ہُوَ رَبِّیۡ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ عَلَیۡہِ تَوَکَّلۡتُ وَ اِلَیۡہِ مَتَابِ ﴿۳۰﴾
اسی طرح ہم نے تجھے ایسی امت میں بھیجا جس سے پہلے کئی امتیں گزر چکیں، تاکہ تو انھیں وہ وحی پڑھ کر سنائے جو ہم نے تیری طرف بھیجی ہے، اس حال میں کہ وہ اس بے حد مہربان سے کفر کر رہے ہیں۔ کہہ دے وہی میرا رب ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی پر میں نے بھروسا کیا اور اسی کی طرف میرا لوٹنا ہے۔ En
(جس طرح ہم اور پیغمبر بھیجتے رہے ہیں) اسی طرح (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو اس امت میں جس سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکی ہیں بھیجا ہے تاکہ تم ان کو وہ (کتاب) جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے پڑھ کر سنا دو اور یہ لوگ رحمٰن کو نہیں مانتے۔ کہہ دو وہی تو میرا پروردگار ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں
En
اسی طرح ہم نے آپ کو اس امت میں بھیجا ہے جس سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکی ہیں کہ آپ انہیں ہماری طرف سے جو وحی آپ پر اتری ہے پڑھ کر سنایئے یہ اللہ رحمٰن کے منکر ہیں، آپ کہہ دیجئے کہ میرا پالنے واﻻ تو وہی ہے اس کے سوا درحقیقت کوئی بھی ﻻئق عبادت نہیں، اسی کے اوپر میرا بھروسہ ہے اور اسی کی جانب میرا رجوع ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

30۔ اسی طرح ہم نے آپ کو ایسی امت میں بھیجا ہے جس سے پہلے کئی امتیں گزر چکی ہیں، تاکہ آپ انھیں وہ کچھ پڑھ کر سنائیں جو ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے۔ لیکن وہ رحمان [39] کا انکار کر رہے ہیں۔ آپ ان سے کہئے کہ میرا پروردگار تو وہی [40] ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور اسی کے ہاں مجھے جانا ہے
[39] رحمٰن سے کافروں کا چڑنا:۔
رحمٰن اللہ تعالیٰ کا دوسرے درجہ پر ذاتی نام ہے جیسے فرمایا: ﴿قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ [110: 17] اسی لیے یہ لفظ بھی اللہ کی طرح کسی مخلوق کے لیے استعمال نہیں ہوتا قریش مکہ کو اس لفظ سے خاص چڑ تھی۔ جیسے یہود کو جبریل اور مکائیل فرشتوں سے چڑ تھی۔ چنانچہ صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح نامہ کے آغاز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھوایا تو اس پر قریش کے نمائندہ سہیل بن عمرو نے یہ اعتراض کر دیا کہ یہ رحمٰن کون ہے ہم اسے نہیں جانتے جب یہ جھگڑا بڑھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ جملہ مٹا کر قریش کے دستور کے مطابق باسمک اللّٰہ لکھ دیا جائے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ [بخاري، كتاب الشروط، باب الشروط فى الجهاد و المصالحة مع اهل الحرب۔۔]
[40] اس جواب سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ رحمٰن اللہ تعالیٰ ہی کا دوسرا ذاتی نام ہے اور رحمٰن رحم سے مشتق ہے اور اسم مبالغہ ہے۔ جس میں بہت زیادہ بلاغت پائی جاتی ہے یعنی بے انتہا رحم کرنے والا اور یہ اس کی رحمت ہی کا تقاضا تھا کہ اللہ نے سابقہ امتوں کی طرح اس امت میں آپ کو نبی بنا کر مبعوث فرمایا تاکہ ان کی ہدایت کے لیے آپ انھیں قرآن پڑھ کر سنائیں۔ مگر ان لوگوں کو قرآن سے چڑ ہو گئی اور اپنے معبودوں کو چھوڑنے پر قطعاً تیار نہ ہوئے اور آپ کی مخالفت پر کمر بستہ ہو گئے اور آپ کو اور آپ کے متبعین کو اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا۔ ایسی صورت حال میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر سے فرمایا کہ آپ انھیں کہہ دیجئے کہ تم لوگ جو کچھ کر رہے ہو کرتے جاؤ۔ میں اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتا ہوں۔ وہ خود ہی ان باتوں کا فیصلہ کر دے گا۔