اور میں اپنے نفس کو بری نہیں کرتی، بے شک نفس تو برائی کا بہت حکم دینے والا ہے مگر جس پر میرا رب رحم کرے۔ بے شک میرا رب بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
En
اور میں اپنے تئیں پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس امارہ (انسان کو) برائی سکھاتا رہتا ہے۔ مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے گا۔ بےشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے
میں اپنے نفس کی پاکیزگی بیان نہیں کرتا۔ بیشک نفس تو برائی پر ابھارنے واﻻ ہی ہے، مگر یہ کہ میرا پروردگار ہی اپنا رحم کرے، یقیناً میرا پالنے واﻻ بڑی بخشش کرنے واﻻ اور بہت مہربانی فرمانے واﻻ ہے
En
53۔ اور میں اپنے آپ کو پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس تو اکثر برائی پر اکساتا رہتا ہے مگر جس پر میرے [52] پروردگار کی رحمت ہو۔ یقیناً میرا رب معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے
[52] سیدنا یوسف کی کسر نفسی:۔
بھری مجلس میں مجرم کے اعتراف اور اس قضیہ میں آپ کی شاندار جیت کے بعد یہ عین ممکن تھا کہ بشری تقاضوں کے تحت آپ کے نفس میں کچھ پندار اور غرور سر اٹھانے لگتا۔ اسی لیے ساتھ ہی آپ نے فرمایا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ مجھ سے کوئی غلطی سرزد ہو ہی نہیں سکتی نفس کا تو کام ہی یہ ہے کہ برائی کے کاموں پر انسان کو آمادہ کرتا رہتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی کی رحمت ہے کہ انسان اس برائی پر عمل کرنے سے بچا رہتا ہے اور جو میں بچا رہا تو اسی لیے کہ میرا اللہ تعالیٰ اپنے رحم و فضل سے مجھے بچاتا رہا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔