وَ مَاۤ اُبَرِّیُٔ نَفۡسِیۡ ۚ اِنَّ النَّفۡسَ لَاَمَّارَۃٌۢ بِالسُّوۡٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیۡ ؕ اِنَّ رَبِّیۡ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۵۳﴾
اور میں اپنے نفس کو بری نہیں کرتی، بے شک نفس تو برائی کا بہت حکم دینے والا ہے مگر جس پر میرا رب رحم کرے۔ بے شک میرا رب بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
En
اور میں اپنے تئیں پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس امارہ (انسان کو) برائی سکھاتا رہتا ہے۔ مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے گا۔ بےشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے
En
میں اپنے نفس کی پاکیزگی بیان نہیں کرتا۔ بیشک نفس تو برائی پر ابھارنے واﻻ ہی ہے، مگر یہ کہ میرا پروردگار ہی اپنا رحم کرے، یقیناً میرا پالنے واﻻ بڑی بخشش کرنے واﻻ اور بہت مہربانی فرمانے واﻻ ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 53) ➊ { وَ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِيْ…:} یہ عزیز مصر کی بیوی کے کلام کا آخری حصہ ہے۔ گویا عزیز مصر کی بیوی یہ کہنا چاہتی ہے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اپنے خاوند کی کوئی بڑی خیانت نہیں کی، بے شک میں نے یوسف کو پھسلانا چاہا تھا مگر کامیاب نہ ہو سکی، ہاں میں اپنے آپ کو پاک باز قرار نہیں دیتی، مجھ سے جتنی غلطی ہوئی اس کا اقرار و اعتراف کرتی ہوں، نفس کی شرارتوں سے تو وہی محفوظ رہ سکتا ہے جس پر اللہ کی خاص رحمت ہو (مراد یوسف علیہ السلام ہیں)۔
➋ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عزیز مصر کی بیوی اللہ تعالیٰ کو اور اس کی صفات غفور و رحیم کو مانتی تھی اور نیکی اور گناہ کو بھی سمجھتی تھی۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ اس کا قول نہیں ہو سکتا، کیونکہ وہ تو کافرہ تھی۔ جواب اس کا یہ ہے کہ اول تو اس کے کفر کی کوئی دلیل ہمارے سامنے نہیں اور اگر ہو بھی تو مکہ کے کافر اللہ تعالیٰ کو مانتے تھے، زنا اور دوسرے قبائح کو گناہ سمجھتے تھے، پھر بھی مشرک تھے۔ آج کل بے شمار کلمہ گو آپ کو ایسے مل جائیں گے جو اللہ کو مانتے، اس سے استغفار کرتے اور گناہ کو گناہ سمجھتے ہیں، مگر پھر بھی سرتاپا شرک میں مبتلا ہیں۔
➋ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عزیز مصر کی بیوی اللہ تعالیٰ کو اور اس کی صفات غفور و رحیم کو مانتی تھی اور نیکی اور گناہ کو بھی سمجھتی تھی۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ اس کا قول نہیں ہو سکتا، کیونکہ وہ تو کافرہ تھی۔ جواب اس کا یہ ہے کہ اول تو اس کے کفر کی کوئی دلیل ہمارے سامنے نہیں اور اگر ہو بھی تو مکہ کے کافر اللہ تعالیٰ کو مانتے تھے، زنا اور دوسرے قبائح کو گناہ سمجھتے تھے، پھر بھی مشرک تھے۔ آج کل بے شمار کلمہ گو آپ کو ایسے مل جائیں گے جو اللہ کو مانتے، اس سے استغفار کرتے اور گناہ کو گناہ سمجھتے ہیں، مگر پھر بھی سرتاپا شرک میں مبتلا ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
53۔ 1 اسے اگر حضرت یوسف ؑ کا تسلیم کیا جائے تو بطور کسر نفسی کے ہے، ورنہ صاف ظاہر ہے کہ ان کی پاک دامنی ہر طرح سے ثابت ہوچکی تھی۔ اور اگر یہ عزیز مصر کا قول ہے (جیسا کہ امام ابن کثیر کا خیال ہے) تو یہ حقیقت پر مبنی ہے کیونکہ اپنے گناہ کا اور یوسف ؑ کو بہلانے اور پھسلانے کا اعتراف کرلیا۔ 53۔ 2 یہ اس نے اپنی غلطی کی یا اس کی علت بیان کی کہ انسان کا نفس ہی ایسا ہے کہ برائی پر ابھارتا ہے اور اس پر آمادہ کرتا ہے۔ 53۔ 3 یعنی نفس کی شرارتوں سے وہی بچتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو، جیسا کہ حضرت یوسف ؑ کو اللہ تعالیٰ نے بچا لیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
53۔ اور میں اپنے آپ کو پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس تو اکثر برائی پر اکساتا رہتا ہے مگر جس پر میرے [52] پروردگار کی رحمت ہو۔ یقیناً میرا رب معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے
[52] سیدنا یوسف کی کسر نفسی:۔
بھری مجلس میں مجرم کے اعتراف اور اس قضیہ میں آپ کی شاندار جیت کے بعد یہ عین ممکن تھا کہ بشری تقاضوں کے تحت آپ کے نفس میں کچھ پندار اور غرور سر اٹھانے لگتا۔ اسی لیے ساتھ ہی آپ نے فرمایا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ مجھ سے کوئی غلطی سرزد ہو ہی نہیں سکتی نفس کا تو کام ہی یہ ہے کہ برائی کے کاموں پر انسان کو آمادہ کرتا رہتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی کی رحمت ہے کہ انسان اس برائی پر عمل کرنے سے بچا رہتا ہے اور جو میں بچا رہا تو اسی لیے کہ میرا اللہ تعالیٰ اپنے رحم و فضل سے مجھے بچاتا رہا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
عزیز مصر کی بیوی کہہ رہی ہے کہ میں اپنی پاکیزگی بیان نہیں کر رہی اپنے آپ کو نہیں سراہتی۔ نفس انسانی تمناؤں اور بری باتوں کا مخزن ہے۔ اس میں ایسے جذبات اور شوق اچھلتے رہتے ہیں۔ وہ برائیوں پر ابھارتا رہتا ہے۔ اسی کے پھندے میں پھنس کر میں نے یوسف علیہ السلام کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔ مگر جسے اللہ چاہے نفس کی برائی سے محفوظ رکھ لیتا ہے۔ اس لیے کہ اللہ بڑا غفور و رحیم ہے۔ بخشش کرنا معافی دینا اس کی ابدی اور لازمی صفت ہے۔ یہ قول عزیز مصر کی عورت کا ہی ہے۔ یہی بات مشہور ہے اور زیادہ لائق ہے اور واقعہ کے بیان سے بھی زیادہ مناسب ہے۔ اور کلام کے معنی کے ساتھ بھی زیادہ موافق ہے۔ امام ماوردی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں اسے وارد کیا ہے۔ اور علامہ ابوالعباس امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے تو اسے ایک مستقل تصنیف میں بیان فرمایا ہے اور اس کی پوری تائید کی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ قول یوسف علیہ السلام کا ہے۔ [َؐلِیَعْلَمَ] سے اس دوسری آیت کے ختم تک انہی کا فرمان ہے۔
ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے تو صرف یہی ایک قول نقل کیا ہے۔ چنانچہ ابن جریر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بادشاہ نے عورتوں کو جمع کر کے جب ان سے پوچھا کہ کیا تم نے یوسف علیہ السلام کو بہلایا پھسلایا تھا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ حاشاللہ ہم نے اس میں کوئی برائی نہیں دیکھی۔ اس وقت عزیز مصر کی بیوی نے اقرار کیا کہ واقعی حق تو یہی ہے۔
ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے تو صرف یہی ایک قول نقل کیا ہے۔ چنانچہ ابن جریر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بادشاہ نے عورتوں کو جمع کر کے جب ان سے پوچھا کہ کیا تم نے یوسف علیہ السلام کو بہلایا پھسلایا تھا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ حاشاللہ ہم نے اس میں کوئی برائی نہیں دیکھی۔ اس وقت عزیز مصر کی بیوی نے اقرار کیا کہ واقعی حق تو یہی ہے۔
تو یوسف علیہ السلام نے فرمایا یہ سب اس لیے تھا کہ میری امانت درای کا یقین ہو جائے۔ جبرائیل علیہ السلام نے آپ علیہ السلام سے فرمایا وہ دن بھی یاد ہے؟ کہ آپ علیہ السلام نے کچھ ارادہ کر لیا تھا؟ تب آپ نے فرمایا میں اپنے نفس کی براءت تو نہیں کر رہا؟ بیشک نفس برائیوں کا حکم دیتا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:237/7] الغرض ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ کلام یوسف علیہ السلام کا ہے۔ لیکن پہلا قول یعنی اس کلام کا عزیز کی موت کا کلام ہونا ہی زیادہ قوی اور زیادہ ظاہر ہے۔ اس لیے کہ اوپر سے انہی کا کلام چلا آ رہا ہے جو بادشاہ کے سامنے سب کی موجودگی میں ہو رہا تھا۔ اس وقت تو یوسف علیہ السلام وہاں موجود ہی نہ تھے۔ اس تمام قصے کے کھل جانے کے بعد بادشاہ نے آپ علیہ السلام کو بلوایا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
چونکہ اس کلام میں عورت کے اپنے لیے تزکیہ کے دعوے کا شائبہ پایا جاتا ہے اور یہ دعویٰ بھی پایا جاتا ہے کہ یوسف علیہ السلام کے معاملے میں اس سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا۔ اس لیے عورت نے استدراک کے طور پر کہا: ﴿وَمَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ﴾ ”اور میں اپنے تئیں پاک صاف نہیں کہتی۔“ یعنی میں نے یوسف کو پھسلانے، اس کے ساتھ برائی کے ارادے اور اس کی شدید حرص اور اس کے بارے میں سازش کرنے میں اپنے آپ کو بری قرار نہیں دیتی۔ ﴿اِنَّ النَّ٘فْ٘سَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ ﴾ ”کیونکہ نفس امارہ (انسان کو) برائی ہی سکھاتا رہتا ہے۔“ یعنی نفس انسان کو بہت کثرت سے برائی، یعنی بے حیائی اور دیگر تمام گناہوں کا حکم دیتا ہے۔ نفس شیطان کی سواری ہے اور شیطان نفس کے راستے سے انسان میں داخل ہوتا ہے۔ ﴿اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ﴾ ”سوائے اس شخص کے جس پر میرا رب رحم کر دے“ اور اسے اس کے نفس امارہ سے نجات دے دے اور اس طرح اس کا نفس امارہ نفس مطمئنہ میں بدل جائے۔ ہلاکت کے داعی کی نافرمانی کر کے ہدایت کے داعی کی آواز پر لبیک کہے۔ اس میں نفس کا کوئی کمال نہیں بلکہ یہ اللہ کا اپنے بندے پر بے انتہا فضل و کرم اور اس کی بے پایاں رحمت ہے۔ ﴿اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ﴾ ”بے شک میرا رب بخشنے والا۔“ جب کوئی گناہ اور معاصی کے ارتکاب کی جرأت کرنے کے بعد توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بخش دیتا ہے۔ ﴿رَّحِیْمٌ ﴾ ”رحم کرنے والا ہے۔“ اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر کے اور اسے نیک اعمال کی توفیق عطا کر کے اس پر رحم کرتا ہے۔ ان آیات کریمہ کی تفسیر میں قرین صواب یہی ہے کہ یہ عزیز مصر کی بیوی کا قول ہے یوسف علیہ السلام کا نہیں کیونکہ یہ بات عورت کے کلام کے سیاق میں آئی ہے اور یوسف علیہ السلام تو اس وقت قید میں تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم لما كان في هذا الكلام نوعُ تزكيةٍ لنفسها وأنه لم يجر منها ذنبٌ في شأن يوسف استدركت فقالت: {وما أُبَرِّئُ نَفْسِي}؛ أي: من المراودة والهمِّ والحرص الشديد والكيد في ذلك. {إنَّ النفس لأمارةٌ بالسوءِ}؛ أي: لكثيرة الأمر لصاحبها بالسوء؛ أي: الفاحشة وسائر الذنوب؛ فإنَّها مركَبُ الشيطان، ومنها يدخُلُ على الإنسان. {إلاَّ ما رَحِمَ ربي}: فنجَّاه من نفسه الأمَّارة حتى صارت نفسُهُ مطمئنةً إلى ربِّها منقادة لداعي الهدى متعاصية عن داعي الرَّدى؛ فذلك ليس من النفس، بل من فضل الله ورحمته بعبده. {إنَّ ربِّي غفورٌ رحيم}؛ أي: هو غفور لمن تجرَّأ على الذُّنوب والمعاصي إذا تاب وأناب، رحيمٌ بقَبول توبته وتوفيقه للأعمال الصالحة.
وهذا هو الصوابُ أنَّ هذا من قول امرأة العزيز لا من قول يوسُفَ؛ فإنَّ السياق في كلامها، ويوسُفُ إذ ذاك في السجن لم يحضُرْ.