ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ يوسف (12) — آیت 31

فَلَمَّا سَمِعَتۡ بِمَکۡرِہِنَّ اَرۡسَلَتۡ اِلَیۡہِنَّ وَ اَعۡتَدَتۡ لَہُنَّ مُتَّکَاً وَّ اٰتَتۡ کُلَّ وَاحِدَۃٍ مِّنۡہُنَّ سِکِّیۡنًا وَّ قَالَتِ اخۡرُجۡ عَلَیۡہِنَّ ۚ فَلَمَّا رَاَیۡنَہٗۤ اَکۡبَرۡنَہٗ وَ قَطَّعۡنَ اَیۡدِیَہُنَّ وَ قُلۡنَ حَاشَ لِلّٰہِ مَا ہٰذَا بَشَرًا ؕ اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا مَلَکٌ کَرِیۡمٌ ﴿۳۱﴾
تو جب اس عورت نے ان کے فریب کے بارے میں سنا تو ان کی طرف پیغام بھیجا اور ان کے لیے ایک تکیہ دار مجلس تیار کی اور ان میں سے ہر ایک کو ایک چھری دے دی اور کہا ان کے سامنے نکل۔ پھر جب انھوں نے اسے دیکھا تو اسے بہت بڑا پایا اور انھوں نے اپنے ہاتھ بری طرح کاٹ ڈالے اور کہا اللہ کی پناہ! یہ کوئی آدمی نہیں ہے، یہ نہیں ہے مگر کوئی نہایت معزز فرشتہ۔ En
جب زلیخا نے ان عورتوں کی (گفتگو جو حقیقت میں دیدار یوسف کے لیے ایک) چال (تھی) سنی تو ان کے پاس (دعوت کا) پیغام بھیجا اور ان کے لیے ایک محفل مرتب کی۔ اور (پھل تراشنے کے لیے) ہر ایک کو ایک چھری دی اور (یوسف سے) کہا کہ ان کے سامنے باہر آؤ۔ جب عورتوں نے ان کو دیکھا تو ان کا رعب (حسن) ان پر (ایسا) چھا گیا کہ (پھل تراشتے تراشتے) اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور بےساختہ بول اٹھیں کہ سبحان الله (یہ حسن) یہ آدمی نہیں کوئی بزرگ فرشتہ ہے
En
اس نے جب ان کی اس پر فریب غیبت کا حال سنا تو انہیں بلوا بھیجا اور ان کے لئے ایک مجلس مرتب کی اور ان میں سے ہر ایک کو چھری دی۔ اور کہا اے یوسف! ان کے سامنے چلے آؤ، ان عورتوں نے جب اسے دیکھا تو بہت بڑا جانا اور اپنے ہاتھ کاٹ لئے، اور زبان سے نکل گیا کہ حاشاللہ! یہ انسان تو ہرگز نہیں، یہ تو یقیناً کوئی بہت ہی بزرگ فرشتہ ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

31۔ جب اس (زلیخا) نے ان کی مکارانہ [29] باتیں سنیں تو انھیں بلاوا بھیج دیا اور ان کے لئے ایک تکیہ دار مجلس ضیافت تیار کی اور ہر عورت کے سامنے ایک ایک چھری رکھ دی [30] اور یوسف سے کہا کہ تم ان کے سامنے نکل آؤ۔ جب ان عورتوں نے انھیں دیکھا تو (حسن میں) فائق تر سمجھا اور (پھل کاٹتے کاٹتے) اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے اور بے ساختہ بول اٹھیں کہ یہ انسان نہیں یہ تو کوئی بزرگ فرشتہ ہے
[29] شہر کی عورتوں کی چہ میگوئیاں اور زلیخا کو طعنے:۔
جس بات کا عزیز مصر کو خطرہ تھا وہ ہو کے رہی۔ رفتہ رفتہ یہ بات شہر کی عورتوں میں پھیل ہی گئی کہ عزیز مصر کی بیوی زلیخا اپنے غلام پر عاشق ہے۔ اس نے اسے اپنے دام تزویر میں پھنسانا چاہا تھا۔ لیکن وہ اس کے ہتھے نہیں چڑھ سکا۔ اتنی بات تو حقیقت تھی، پھر اس بات پر عورتوں کے تبصرے کرنا بالخصوص عورتوں کا ہی میدان ہے۔ وہ کئی لحاظ سے زلیخا کو مطعون کر رہی تھیں۔ ایک یہ کہ وہ اس درجہ گھٹیا عورت ہے کہ اپنے غلام پر عاشق ہو گئی ہے اور دوسرے یہ کہ وہ اتنی بدھو ہے کہ اگر وہ یوسف پر فریفتہ ہو ہی گئی تھی تو اسے اپنی طرف مائل بھی نہ کر سکی۔ ورنہ ایک نوجوان کو اپنی طرف مائل کر لینا ایک جوان عورت کے لیے کون سی بڑی بات ہے؟
[30] ضیافت کا اہتمام:۔
شہر کی عورتوں کی ایسی باتوں سے زلیخا کو بہت تکلیف ہوئی، تاہم وہ اپنے آپ کو اس معاملہ میں معذور سمجھتی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ کوئی عورت ایسی نہیں ہو سکتی جو یوسف جیسے حسین و جمیل نوجوان کو دیکھ لے تو پھر اس پر فریفتہ نہ ہو اور دوسرے اسے یہ بھی یقین ہو چکا تھا کہ کوئی عورت خواہ کتنا ہی بن ٹھن کر یوسف کے سامنے آئے وہ اتنا عظیم اور پارسا انسان ہے کہ وہ اس کی طرف مائل نہیں ہو سکتا۔ اب انھیں دو باتوں کے تجربہ کے لیے اور باتیں بنانے والی عورتوں پر اتمام حجت اور انھیں جھوٹا ثابت کرنے کے لیے اس نے ایک تدبیر سوچی۔ اس نے ایک پر تکلف ضیافت کا اہتمام کیا اور پھل وغیرہ مہیا کیے، اور ساتھ ہی چاقو چھریاں بھی پھل چھیلنے اور کاٹنے کے لیے رکھ دیں اور اس طرح کی باتیں بنانے والی سب عورتوں کو اس ضیافت میں بلایا۔ جب عورتیں آگئیں اور کھانے پینے میں مشغول ہو گئیں تو زلیخا نے یوسفؑ کو اس مجلس میں بلا لیا عورتیں یوسفؑ کا حسن و جمال دیکھ کر اس قدر محو نظارہ اور بے خود ہو گئیں کہ ان کی چھریاں پھلوں پر چلنے کی بجائے ان کے اپنے ہاتھوں پر چل گئیں اور حدیث میں آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کا واقعہ بیان کرنے کے دوران فرمایا: جب تیسرے آسمان کا دروازہ کھولا گیا تو وہاں سیدنا یوسفؑ سے ملاقات ہوئی۔ اللہ نے حسن کا آدھا حصہ انھیں عطا کیا تھا۔ [مسلم، كتاب الايمان، باب الاسراء برسول الله الي السموات وفرض الصلوات]
تبصرہ کرنے والی عورتوں کی شہادت:۔
پھر انہوں نے یہ بھی بچشم خود دیکھ لیا کہ ان کی ساری دلکشیوں اور رعنائیوں کے باوجود یوسفؑ کسی طرف نظر اٹھا کر دیکھتا بھی نہیں تو بے ساختہ پکار اٹھیں کہ یہ انسان نہیں بلکہ کوئی معزز فرشتہ ہے یہ بات نا ممکنات سے ہے ایک نوجوان انسان جنسی خواہشات سے اس قدر بالا تر ہو کہ وہ ہماری طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھے۔