ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النصر (110) — آیت 1

اِذَا جَآءَ نَصۡرُ اللّٰہِ وَ الۡفَتۡحُ ۙ﴿۱﴾
جب اللہ کی مدد اور فتح آجائے۔ En
جب خدا کی مدد آ پہنچی اور فتح (حاصل ہو گئی)
En
جب اللہ کی مدد اور فتح آجائے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

1۔ جب اللہ کی مدد اور فتح [1] آ پہنچی
[1] فتح مکہ۔ مکہ پر چڑھائی کا سبب اور کیفیت :۔
فتح سے مراد کسی عام معرکہ کی فتح نہیں بلکہ اس سے مراد مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن قریش کا مرکز شہر مکہ ہے۔ تمام قبائل عرب اس بات کے منتظر تھے کہ آیا مسلمان مکہ کو فتح کر سکیں گے یا نہیں؟ اگر کر لیں تو اسلام سچا مذہب ہے ورنہ نہیں۔ ان لوگوں نے اپنے اسلام لانے کو بھی فتح مکہ سے مشروط اور فتح مکہ تک موخر کر رکھا تھا۔ گویا فتح مکہ اسلام اور کفر کے درمیان ایک فیصلہ کن فتح تھی۔ اور خالصتاً اللہ کی مدد سے اور معجزانہ انداز سے واقع ہوئی تھی۔ جس میں مسلمانوں کو معمولی سے معرکہ کی بھی ضرورت پیش نہ آئی۔ مکہ پر چڑھائی کا فوری سبب قریش مکہ کی عہد شکنی تھی جو انہوں نے صلح حدیبیہ کی شرائط کو پس پشت ڈال کر اور اپنے حلیف قبیلہ بنو بکر کی علی الاعلان مدد کر کے کی تھی۔ اور جب بنو خزاعہ کی فریاد پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے سامنے کچھ شرائط پیش کیں تو قریشی نوجوانوں نے انہیں ٹھکرا دیا تھا۔ اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی خفیہ طریق سے مکہ پر چڑھائی کی تیاری شروع کر دی اور اپنے حلیف قبائل کو بھی خفیہ طور پر پیغام بھیج دیا تھا۔
ابو سفیان کی گرفتاری :۔
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے روانہ ہوئے تو لشکر کی تعداد چار ہزار تھی۔ راستہ میں حلیف قبائل ملتے گئے اور مکہ پہنچنے تک دس ہزار کا جرار لشکر آپ کے ہمرکاب تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے قریب مر الظہران میں پڑاؤ ڈالا تو اس لشکر کو میلوں میں پھیلا دیا اور حکم دیا کہ آگ کے بڑے بڑے الاؤ روشن کیے جائیں۔ دشمن یہ منظر دیکھ کر اس قدر مرعوب ہو گیا کہ اس میں مقابلہ کی سکت ہی نہ رہی۔ ابو سفیان اپنے دو ساتھیوں سمیت حالات کا جائزہ لینے نکلا ہی تھی کہ گرفتار ہو گیا۔ سیدنا عباسؓ نے اسے اپنے گھوڑے کے پیچھے بٹھایا تاکہ بلا تاخیر اس کے لیے دربار نبوی سے امان کا پروانہ حاصل کر لیا جائے۔ سیدنا عمرؓ کو خبر ہوئی تو وہ بھی فوراً دربار نبوی کو روانہ ہوئے تاکہ ابو سفیان کو دربار نبوی میں پہنچنے سے پہلے اور امان ملنے سے پیشتر ہی قتل کر دیا جائے۔ اتفاق کی بات کہ سیدنا عباس پہلے پہنچ گئے اور ابو سفیان کی جان بچ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کر دیا اور سیدنا عباس سے کہا کہ اسے اپنے خیمہ میں لے جائیں۔
آپ کا مسلمانوں کو کفار کے سامنے شان و شوکت کا مظاہرہ کرنے کا حکم :۔
دوسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سفیان کو پہاڑی کے ایک بلند مقام پر کھڑا کیا اور اسلامی لشکر، جو قبائل کے لحاظ سے مختلف فوجی دستوں میں بٹا ہوا تھا، کو حکم دیا کہ ابو سفیان کے سامنے پوری شان و شوکت کے ساتھ گزرتے جائیں۔ اس نظارہ نے صرف ابو سفیان پر ہی نہیں، تمام کفار کے دلوں پر اسلام کی ایسی دھاک بٹھا دی کہ مقابلہ کا کسی کو خیال تک نہ آیا اور اس طرح عرب کا یہ مرکزی شہر بلا مقابلہ اور بغیر کسی خون خرابہ کے فتح ہو گیا۔
معافی کا اعلان :۔
فتح کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ان جانی دشمنوں کو بڑی فراخدلی کے ساتھ معاف کر دیا۔ جس کا اثر یہ ہوا کہ نہ صرف ابو سفیان اور اس کے اہل خانہ مسلمان ہو گئے بلکہ اہل مکہ کی اکثریت نے اسلام قبول کر لیا۔ کافروں کے دلوں میں اس طرح رعب ڈال دینا اور مکہ کا اس طرح بلا مقابلہ فتح ہو جانا بلا شبہ اللہ کی مدد کے بغیر ممکن نہ تھا۔