تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ ایک دن عمر رضی اللہ عنہ نے شیوخ بدر کی موجودگی میں مجھے بلوایا اور حاضرین سے پوچھا: ”اللہ تعالیٰ کے فرمان: «اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ» کے متعلق تم کیا کہتے ہو؟“ تو ان میں سے بعض نے کہا کہ اس میں ہمیں حکم ہوا ہے کہ جب ہمیں فتح و نصرت حاصل ہو تو اللہ کی حمد اور استغفار کریں اور بعض خاموش رہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ابن عباس! تم بھی یہی کہتے ہو؟“ میں نے کہا:” نہیں!“ فرمایا: ”تو تم کیا کہتے ہو؟“ میں نے کہا: ”اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کا وقت ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کی اطلاع دی ہے، فرمایا: «اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ» ”جب اللہ کی نصرت اور فتح آگئی۔“ یہ (فتح و نصرت) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کی علامت ہے، لہٰذا اب آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجیے اور اس سے استغفار کیجیے، یقینا وہ تواب ہے۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو کچھ تم کہہ رہے ہو اس سورت کے متعلق مجھے بھی یہی معلوم ہے۔“ [بخاري، التفسیر، باب قولہ: «فسبح بحمد ربک…» : ۴۹۷۰]
➌ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ شیوخ بدر نے جو تفسیر کی ہے وہ بھی بہت خوب صورت مفہوم ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد آٹھ رکعات ادا فرمائیں۔ اس لیے امیر لشکر کے لیے مستحب ہے کہ کوئی شہر فتح کرنے کے بعد اس میں داخل ہو تو آٹھ رکعات (نوافل) پڑھے۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے مدائن فتح کیا تو ایسے ہی کیا تھا۔ البتہ عمر بن خطاب اور ابن عباس رضی اللہ عنھم نے جو مفہوم سمجھا ہے کہ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی موت کی اطلاع دی گئی ہے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کا کام مکمل ہو چکا، اب آپ کو ہمارے پاس آنے کی تیاری کرنی چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی سمجھا، اس لیے اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم تسبیح و تحمید اور استغفار کثرت سے کرنے لگے۔
➍ اس سورت کے نزول کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے سے بھی زیادہ آخرت کی تیاری شروع کر دی اور زیادہ سے زیادہ تسبیح و تحمید اور استغفار کرنے لگے۔ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ {” اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ “} نازل ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نماز نہیں پڑھی جس میں یہ نہ پڑھا ہو: [سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ] [بخاري، التفسیر، سورۃ: «إذا جاء نصر اللہ» : ۴۹۶۷] ” تو (ہر عیب سے) پاک ہے، اے ہمارے پروردگار! ہم تیری تعریف اور پاکی بیان کرتے ہیں، اے اللہ! مجھے بخش دے۔“ بخاری کی اس سے بعد والی روایت بھی عائشہ رضی اللہ عنھا ہی سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدے میں کثرت سے یہ دعا پڑھتے تھے: [سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِيْ] [بخاري، التفسیر، سورۃ: «إذا جاء نصر اللہ» : ۴۹۶۸] ”اے ہمارے اللہ! اے ہمارے پروردگار! تو (ہر عیب سے) پاک ہے، ہم تیری تعریف اور پاکی بیان کرتے ہیں، اے اللہ! مجھے بخش دے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا قرآن پر عمل کرتے ہوئے پڑھتے تھے۔
➎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ جَلَسَ فِيْ مَجْلِسٍ فَكَثُرَ فِيْهِ لَغَطُهُ فَقَالَ قَبْلَ أَنْ يَّقُوْمَ مِنْ مَّجْلِسِهِ ذٰلِكَ: سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلٰهَ إِلاَّ أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوْبُ إِلَيْكَ، إِلاَّ غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ فِيْ مَجْلِسِهِ ذٰلِكَ] [ترمذي، الدعوات، باب ما یقول إذا قام من مجلسہ: ۳۴۳۳، وقال الألباني صحیح] ”جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے اور اس میں شور و غل زیادہ کر بیٹھے، پھر اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے یہ پڑھ لے تو اس مجلس میں اس سے جو کچھ ہوا وہ معاف کر دیا جاتا ہے: [سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوْبُ إِلَيْكَ] ”اے اللہ! تو پاک ہے اور تیری حمد کے ساتھ (ہم تیری تعریف کرتے ہیں)، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں، میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتاہوں۔“
➏ {” اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا “} میں {” كَانَ “} استمرار کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے: ”یقینا وہ ہمیشہ سے بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ { جب یہ سوت اتری چونکہ اس میں آپ کے انتقال کی خبر تھی تو آپ نے اپنے کاموں میں اور کمر کس لی } اور تقریباً وہی فرمایا جو اوپر گزرا۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:11903]
اور حدیث میں ہے کہ {جب یہ سورت اتری آپ نے اس کی تلاوت کی اور فرمایا: ”لوگ ایک کنارہ ہوں، میں اور میرے اصحاب ایک کنارہ میں ہیں، سنو فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں البتہ جہاد اور نیت ہے“}۔
مروان کو جب یہ حدیث سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے سنائی تو یہ کہنے لگا، جھوٹ کہتا ہے اس وقت مروان کے ساتھ اس کے تخت پر سیدنا رافع بن خدیج اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما بھی بیٹھے تھے، تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرمانے لگے ان دونوں کو بھی اس حدیث کی خبر ہے یہ بھی اس حدیث کو بیان کر سکتے ہیں لیکن ایک کو تو اپنی سرداری چھن جانے کا خوف ہے اور دوسرے کو زکوٰۃ کی وصولی کے عہدے سے سبکدوش ہو جانے کا ڈر ہے مروان نے یہ سن کر کوڑا اٹھا کر سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کو مارنا چاہا ان دونوں بزرگوں نے جب یہ دیکھا تو کہنے لگے مروان سن ابوسعید نے سچ بیان فرمایا ۱؎ [مسند احمد:22/3:صحيح لغيره دون الجملة] یہ حدیث ثابت ہے۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم شریف میں یہ حدیث موجود ہے ہاں یہ بھی یاد رہے کہ جن بعض صحابہ نے سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے سامنے اس سورت کا یہ مطلب بیان کیا کہ جب ہم پر اللہ تعالیٰ شہر اور قلعے فتح کر دے اور ہماری مدد فرمائے تو ہمیں حکم مل رہا ہے کہ ہم اس کی تعریفیں بیان کریں اس کا شکر کریں اور اس کی پاکیزگی بیان کریں، نماز ادا کریں اور اپنے گناہوں کی بخشش طلب کریں یہ مطلب بھی بالکل صحیح ہے۔
اور یہ تفسیر بھی نہایت پیاری ہے دیکھو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے دن ضحیٰ کے وقت آٹھ رکعت نماز ادا کی ۱؎ [صحیح بخاری:1103] گو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ ضحیٰ کی نماز تھی لیکن ہم کہہ سکتے ہیں کہ ضحیٰ کی نماز آپ ہمیشہ نہیں پڑھتے تھے پھر اس دن جبکہ شغل اور کام بہت زیادہ تھا مسافرت تھی یہ کیسے پڑھی؟ آپ کی اقامت فتح کے موقعہ پر مکہ شریف میں رمضان شریف کے آخر تک انیس دن رہی آپ فرض نماز کو بھی قصر کرتے رہے روزہ بھی نہیں رکھا اور تمام لشکر جو تقریباً دس ہزار تھا اسی طرح کرتا رہا ان حقائق سے یہ بات صاف ثابت ہو جاتی ہے کہ یہ نماز فتح کے شکریہ کی نماز تھی اسی لیے سردار لشکر امام وقت پر مستحب ہے کہ جب کوئی شہر فتح ہو تو داخل ہوتے ہی دو رکعت نماز ادا کرے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فتح مدائن والے دن ایسا ہی کیا تھا ان آٹھ رکعت کو دو دو رکعت کر کے ادا کرے گو بعض کا یہ قول بھی ہے کہ آٹھوں ایک ہی سلام سے پڑھ لے لیکن ابوداؤد کی حدیث میں صراحتاً مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز میں ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرا ہے ۱؎۔ [سنن ابوداود:1290،قال الشيخ الألباني:ضعيف]
دوسری تفسیر بھی صحیح ہے جو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ نے کی ہے کہ اس میں آپ کو آپ کے وصال کی خبر دی گئی کہ جب آپ اپنی بستی مکہ فتح کر لیں جہاں سے ان کفار نے آپ کو نکل جانے پر مجبور کیا تھا اور آپ اپنی آنکھوں اپنی محنت کا پھل دیکھ لیں کہ فوجوں کی فوجیں آپ کے جھنڈے تلے آ جائیں جوق در جوق لوگ حلقہ بگوش اسلام ہو جائیں تو ہماری طرف آنے کی اور ہم سے ملاقات کی تیاریوں میں لگ جاؤ سمجھ لو کہ جو کام ہمیں تم سے لینا تھا پورا ہو چکا اب آخرت کی طرف نگاہیں ڈالو جہاں آپ کے لیے بہت بہتری ہے اور اس دنیا سے بہت زیادہ بھلائی آپ کے لیے وہاں ہے وہیں آپ کی مہمانی تیار ہے اور مجھ جیسا میزبان ہے تم ان نشانات کو دیکھ کر بکثرت میری حمد و ثناء کرو اور توبہ استغفار میں لگ جاؤ۔
اور روایت میں ہے کہ {نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آخری عمر میں ان کلمات کا اکثر ورد کرتے تھے «سُبْحَان اللَّه وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِر اللَّه وَأَتُوب إِلَيْهِ» اللہ کی ذات پاک ہے اسی کے لیے سب تعریفیں مختص ہیں میں اللہ سے استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف جھکتا ہوں اور فرمایا کرتے تھے کہ ”میرے رب نے مجھے حکم دے رکھا ہے کہ جب میں یہ علامت دیکھ لوں کہ مکہ فتح ہو گیا اور دین اسلام میں فوجیں کی فوجیں داخل ہونے لگیں تو میں ان کلمات کو بکثرت کہوں چنانچہ بحمد اللہ میں اسے دیکھ چکا لہٰذا اب اس وظیفے میں مشغول ہوں“} ۱؎۔ [صحیح مسلم:484] (مسند احمد)
ابن جریر میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ {نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آخری عمر میں بیٹھتے اٹھتے چلتے پھرتے آتے جاتے «سُبْحَان اللَّه وَبِحَمْدِهِ» پڑھا کرتے میں نے ایک مرتبہ پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! اس کی کیا وجہ ہے تو آپ نے اس سورت کی تلاوت کی اور فرمایا: ”مجھے حکم الٰہی یہی ہے“} ہے ۱؎، [تفسیر ابن جریر الطبری:38248:ضعیف]
کسی مجلس میں بیٹھیں پھر وہ مجلس برخاست ہو تو کیا پڑھنا چاہیئے اسے ہم اپنی ایک مستقل تصنیف میں لکھ چکے ہیں۔
مسند احمد میں ہے کہ {جب یہ سورت اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے اکثر اپنی نماز میں تلاوت کرتے اور رکوع میں تین مرتبہ یہ پڑھتے «سُبْحَانك اللَّهُمَّ رَبّنَا وَبِحَمْدِك اللَّهُمَّ اِغْفِرْ لِي إِنَّك أَنْتَ التَّوَّاب الرَّحِيم» }۔ ۱؎ [مسند احمد:410/1:حسن لغیرہ]
فتح سے مراد یہاں فتح مکہ ہے اس پر اتفاق ہے عموماً عرب قبائل اسی کے منتظر تھے کہ اگر یہ اپنی قوم پر غالب آ جائیں اور مکہ ان کے زیر نگیں آ جائے تو پھر ان کے نبی ہونے میں ذرا سا بھی شک شبہ نہیں اب جبکہ اللہ نے اپنے حبیب کے ہاتھوں مکہ فتح کرا دیا تو یہ سب اسلام میں آ گئے اس کے بعد دو سال بھی پورے نہیں ہوئے تھے کہ سارا عرب مسلمان ہو گیا اور ہر ایک قبیلے میں اسلام اپنا راج کرنے لگا۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
ہم نے غزوہ فتح مکہ کا پورا واقعہ تفصیل کے ساتھ اپنی سیرۃ کی کتاب میں لکھا ہے جو صاحب تفصیلات دیکھنا چاہیں وہ اس کتاب کو دیکھ لیں۔“ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
مسند احمد میں ہے کہ {سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پڑوسی جب اپنے کسی سفر سے واپس آئے تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ ان سے ملاقات کرنے کے لیے گئے انہوں نے لوگوں کی پھوٹ اور ان کے اختلاف کا حال بیان کیا اور ان کی نو ایجاد بدعتوں کا تذکرہ کیا تو صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور روتے ہوئے فرمانے لگے کہ میں نے اللہ کے حبیب شافع روز جزاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ لوگوں کی فوجوں کی فوجیں اللہ کے دین میں داخل ہوئیں لیکن عنقریب جماعتوں کی جماعتیں ان میں سے نکلنے بھی لگ جائیں گی} ۱؎۔ [مسند احمد:343/3:ضعیف]
اس سورت کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالحمدلله على احسانه»
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
في هذه السورة الكريمة: بشارةٌ، وأمرٌ لرسوله عند حصولها، وإشارةٌ، وتنبيهٌ على ما يترتَّب على ذلك:
فالبشارةُ هي البشارة بنصر الله لرسوله، وفتحه مكَّة، ودخول الناس {في دين الله أفواجاً} بحيث يكون كثيرٌ منهم من أهله وأنصاره بعد أن كانوا من أعدائه، وقد وقع هذا المبشَّر به.
وأما الأمر بعد حصول النَّصر والفتح؛ فأمر [اللَّهُ] رسولَه أن يشكره على ذلك، ويسبِّح بحمده، ويستغفره.
وأما الإشارة؛ فإن في ذلك إشارتين: إشارة أنَّ النَّصر يستمرُّ للدين ويزداد عند حصول التَّسبيح بحمد الله واستغفاره من رسوله؛ فإن هذا من الشُّكر، والله يقول: {لئن شكرتُمْ لأزيدَنَّكم}: وقد وُجِدَ ذلك في زمن الخلفاء الراشدين وبعدهم في هذه الأمَّة، لم يزل نصر الله مستمرًّا حتى وصل الإسلام إلى ما لم يصل إليه دينٌ من الأديان، ودخل فيه من لم يدخل في غيره، حتى حدث من الأمة من مخالفة أمر الله ما حدث، فابتُلوا بتفرُّق الكلمة وتشتُّت الأمر، فحصل ما حصل، ومع هذا؛ فلهذه الأمَّة وهذا الدِّين من رحمة الله ولطفه ما لا يخطر بالبال أو يدور في الخيال.
وأما الإشارة الثانية؛ فهي الإشارة إلى أنَّ أجلَ رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قد قرب ودنا، ووجه ذلك أنَّ عمره عمرٌ فاضلٌ، أقسم الله به، وقد عُهِدَ أنَّ الأمور الفاضلة تُخْتَم بالاستغفار؛ كالصلاة والحجِّ وغير ذلك، فأمر الله لرسوله بالحمد والاستغفار في هذه الحال إشارةٌ إلى أنَّ أجله قد انتهى؛ فلْيستعدَّ ويتهيَّأ للقاء ربِّه ويختم عمره بأفضل ما يجده صلوات الله وسلامه عليه، فكان [- صلى الله عليه وسلم -] يتأوَّل القرآن ويقول ذلك في صلاته؛ يكثر أن يقول في ركوعه وسجوده: «سبحانك اللهمَّ ربَّنا وبحمدك، اللهمَّ! اغفر لي».