ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ هود (11) — آیت 62

قَالُوۡا یٰصٰلِحُ قَدۡ کُنۡتَ فِیۡنَا مَرۡجُوًّا قَبۡلَ ہٰذَاۤ اَتَنۡہٰنَاۤ اَنۡ نَّعۡبُدَ مَا یَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیۡ شَکٍّ مِّمَّا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَیۡہِ مُرِیۡبٍ ﴿۶۲﴾
انھوں نے کہا اے صالح! یقینا تو ہم میں وہ تھا جس پر اس سے پہلے امیدیں رکھی گئی تھیں، کیا تو ہمیں منع کرتا ہے کہ ہم ان کی عبادت کریں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے ہیں اور بے شک ہم اس بات کے بارے میں جس کی طرف تو ہمیں دعوت دیتا ہے، یقینا ایک بے چین رکھنے والے شک میں ہیں۔ En
انہوں نے کہا کہ صالح اس سے پہلے ہم تم سے (کئی طرح کی) امیدیں رکھتے تھے (اب وہ منقطع ہوگئیں) کیا تم ہم کو ان چیزوں کے پوجنے سے منع کرتے ہو جن کو ہمارے بزرگ پوجتے آئے ہیں؟ اور جس بات کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو، اس میں ہمیں قوی شبہ ہے
En
انہوں نے کہا اے صالح! اس سے پہلے تو ہم تجھ سے بہت کچھ امیدیں لگائے ہوئے تھے، کیا تو ہمیں ان کی عبادتوں سے روک رہا ہے جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے چلے آئے، ہمیں تو اس دین میں حیران کن شک ہے جس کی طرف تو ہمیں بلا رہا ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

62۔ وہ کہنے لگے: ”صالح اس سے پہلے تو تو ہماری امیدوں کا سہارا تھا [73] کیا تو ہمیں (ان معبودوں کی) عبادت کرنے سے روکتا ہے جنہیں ہمارے آباء و اجداد پوجتے رہے؟ اور جس بات کی تو دعوت دیتا ہے اس میں ہمیں ایسا شک ہے جس نے ہمیں بے چین [74] کر رکھا ہے
[73] یعنی تمہیں عقل مند، ہونہار اور دیانتدار سمجھ کر ہم نے تم سے اپنی بہت سی توقعات وابستہ کر رکھی تھیں کہ تم باپ دادا کا نام روشن کرو گے تم نے تو الٹا باپ دادا کے دین سے سرکشی اختیار کر لی ہے۔ بلکہ ہمیں بھی اس سے روک رہے ہو جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اور ہمارے آباء و اجداد سب کے سب غلط کار ہی تھے۔
[74] نبی کی دعوت سے کافروں میں خلجان کی وجہ:۔
انبیاء کی دعوت کے ان کی قوم کے افراد پر دوگونہ اثرات مترتب ہوتے ہیں جو لوگ ان پر ایمان لے آتے ہیں ان میں قلبی اطمینان و سکون پیدا ہو جاتا ہے اور یہی قلبی سکون ہی ان میں مخالفین کے شدائد کو برداشت کرنے کی جرأت پیدا کر دیتا ہے اور منکروں میں یہی دعوت خلجان اور قلبی اضطراب کا باعث بن جاتی ہے وجہ یہ ہوتی ہے کہ نبی جو دعوت پیش کرتا ہے دلائل کے ساتھ پیش کرتا ہے اور اس کی اپنی سابقہ زندگی اس دعوت کا بڑا ثبوت ہوتی ہے لیکن منکرین کے پاس تقلید آباء کے علاوہ کوئی دلیل نہیں ہوتی اور اس دلیل میں جتنا وزن ہے وہ سب کو معلوم ہے کہ ان کے کسی بزرگ نے ایک غلط رسم ڈالی جو اس کی اولاد میں نسل در نسل منتقل ہوتی چلی گئی جسے بعد میں آنے والوں نے عصبیت کی بنا پر مذہب کا لبادہ پہنا دیا۔ لہٰذا ایسے لوگوں کا خلجان آہستہ آہستہ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ اس خلجان کی دوسری وجہ یہ ہوتی ہے کہ کافروں کے کسی گھرانا سے اگر ایک شخص مسلمان ہو جاتا ہے تو اس کے لواحقین اسے دکھ دیتے اور اس سے بر سر پیکار ہو جاتے ہیں۔ اسلام لانے والے کو تو ان کے شدائد سہنے کے باوجود قلبی اطمینان میسر آتا ہے لیکن تشدد کرنے والے تشدد کرنے کے باوجود پریشان اور سخت مضطرب رہتے ہیں اور چونکہ اسلام لانے والا بھی ایک شخص نہیں بلکہ متعدد افراد ہوتے ہیں لہٰذا کافروں کے سب گھرانوں میں ایک عام اضطراب اور بے چینی کی فضا طاری رہتی ہے جو انھیں مزید تشدد پر برانگیختہ کئے رکھتی ہے۔