یا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے، کہہ دے اگر میں نے اسے گھڑ لیا ہے تو میرا جرم مجھی پر ہے اور میں اس سے بری ہوں جو تم جرم کرتے ہو۔
En
کیا یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) نے یہ قرآن اپنے دل سے بنا لیا ہے۔ کہہ دو کہ اگر میں نے دل سے بنالیا ہے تو میرے گناہ کا وبال مجھ پر اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری الذمہ ہوں
کیا یہ کہتے ہیں کہ اسے خود اسی نے گھڑ لیا ہے؟ تو جواب دے کہ اگر میں نے اسے گھڑ لیا ہو تو میرا گناه مجھ پر ہے اور میں ان گناہوں سے بری ہوں جو تم کر رہے ہو
En
35۔ (اے نبی)! کیا کافر یہ کہتے ہیں کہ: اس نے یہ (قرآن) خود ہی گھڑ لیا ہے [42] آپ ان سے کہئے کہ: ”اگر میں نے گھڑا ہے تو میرا گناہ میرے ذمہ ہے اور جو تم جرم کر رہے ہو میں ان سے بری الذمہ ہوں
[42] کفار مکہ اور قوم نوح میں مماثلت:۔
سابقہ آیات میں نوحؑ کے جو حالات بیان کیے گئے ہیں اور جو کچھ ان کی قوم ان کو جواب دیتی اور ان سے تکرار کرتی رہی وہ بعینہ ویسے ہی تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ میں قریش مکہ کی طرف سے پیش آرہے تھے لہٰذا قریش مکہ کو یہ شبہ لاحق ہوا کہ یہ تو ہمارے ہی حالات اور سوال و جواب ہیں جو نوحؑ کا نام لے کر ہمارے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک الزام یہ بھی لگا دیا کہ یہ باتیں تو یہ خود ہی بنا کر ہمارے سامنے بیان کر رہا ہے اور ”گفتہ آید در حدیث دیگراں“ کے مصداق ہم پر ہی یہ چوٹ کی جا رہی ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ قریش مکہ سیدنا نوحؑ کے واقعات سے عبرت حاصل کرتے مگر اس کے بجائے ان کا ذہن برے پہلو کی طرف گیا اور اپنی اصلاح کرنے کی بجائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک اور الزام لگا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ آپ ان سے کہیے کہ اگر تمہارے کہنے کے مطابق یہ واقعہ میں نے گھڑا ہے تو پھر میں ہی اس جرم کا ذمہ دار ہوں لیکن جو جرائم تم کر رہے ہو ان کی بھی کچھ فکر ہے؟ وہ تو تمہیں ہی بھگتنا ہوں گے نہ کہ مجھے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں