ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ هود (11) — آیت 22

لَا جَرَمَ اَنَّہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ ہُمُ الۡاَخۡسَرُوۡنَ ﴿۲۲﴾
کوئی شک نہیں کہ وہ آخرت میں، وہی سب سے زیادہ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔ En
بلاشبہ یہ لوگ آخرت میں سب سے زیادہ نقصان پانے والے ہیں
En
بیشک یہی لوگ آخرت میں زیاں کار ہوں گے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

22۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آخرت میں یہی سب سے زیادہ نقصان [27] اٹھانے والے ہیں
[27] ایک شخص اللہ کے کسی حکم کی تعمیل ہی نہیں کرتا اسے اس کی سزا ملے گی اور ایک دوسرا شخص تعمیل تو کرتا ہے مگر غلط طریقے سے کرتا ہے اور کسی دوسرے کو بھی اس میں شریک بنا لیتا ہے تو ظاہر ہے کہ اس غلط تعمیل کرنے والے کو زیادہ نقصان ہو گا ایک تو اس نے تعمیل کی مشقت اٹھائی دوسرے اسے سزا بھی زیادہ ملے تو اس سے بڑھ کر زیادہ نقصان اٹھانے والا کون ہو سکتا ہے؟