عصر کا لفظ بنیادی طور پر دو معنوں میں آتا ہے (1) عصر کا وقت جو انتہائی مصروفیات کا وقت ہوتا ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے بطور خاص اس وقت کی نماز کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا: ﴿حٰفِظُوْاعَلَيالصَّلَوٰتِوَالصَّلٰوةِالْوُسْطٰي﴾[238:2] اور احادیث میں یہ صراحت مذکور ہے۔ کہ صلوٰۃوسطیٰ سے مراد عصر کی نماز ہے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کی عصر کی نماز ضائع ہو گئی۔ وہ سمجھ لے کہ اس کا گھر بار اور مال لٹ گیا۔ [ترمذی، ابواب الصلوۃ۔ باب ماجاء فی السہو عن وقت صلوۃ العصر] اور عصر کا دوسرا معنی ’زمانہ‘ اور اس سے وہی زمانہ یا عرصہ مراد لیا جا سکتا ہے۔ جو بنی نوع انسان کی پیدائش سے لے کر قیامت تک کا وقت ہے۔ بنی نوع انسان کی پیدائش سے پہلے کا نہیں۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ عصر کو بنی نوع انسان پر بطور شاہد بیان فرماتے ہیں اور جب انسان کا وجود ہی نہ تھا تو شہادت کیسی؟
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔