ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ يونس (10) — آیت 68

قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا سُبۡحٰنَہٗ ؕ ہُوَ الۡغَنِیُّ ؕ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ اِنۡ عِنۡدَکُمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍۭ بِہٰذَا ؕ اَتَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۶۸﴾
انھوں نے کہا اللہ نے کوئی اولاد بنا رکھی ہے۔ وہ پاک ہے، وہی بے پروا ہے، اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، تمھارے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں، کیا تم اللہ پر وہ کہتے ہو جو نہیں جانتے؟ En
(بعض لوگ) کہتے ہیں کہ خدا نے بیٹا بنا لیا ہے۔ اس کی ذات (اولاد سے) پاک ہے (اور) وہ بےنیاز ہے۔ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے وہ سب اسی کا ہے (اے افتراء پردازو) تمہارے پاس اس (قول باطل) کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ تم خدا کی نسبت ایسی بات کیوں کہتے ہو جو جانتے نہیں
En
وه کہتے ہیں کہ اللہ اوﻻد رکھتا ہے۔ سبحان اللہ! وه تو کسی کا محتاج نہیں اسی کی ملکیت ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ تمہارے پاس اس پر کوئی دلیل نہیں۔ کیا اللہ کے ذمہ ایسی بات لگاتے ہو جس کا تم علم نہیں رکھتے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

68۔ لوگوں نے کہہ دیا کہ اللہ نے (کسی کو) بیٹا بنا لیا ہے۔ وہ (ایسی باتوں سے) پاک ہے۔ وہ بے نیاز [82] ہے۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی [83] کا ہے۔ تمہارے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں کیا تم اللہ کی نسبت وہ بات کہتے ہو جو تم جانتے نہیں؟
[82] کیا اللہ کو بیٹے کی ضرورت ہے؟
اولاد بنانے کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ وہ اولاد صلبی ہو اس سے لازم آتا ہے کہ اس کی بیوی بھی ہو اور وہ اس کا محتاج بھی ہو اور جو محتاج ہو وہ معبود حقیقی نہیں ہو سکتا۔ معبود حقیقی کی شان ہی یہ ہے کہ وہ کسی چیز کا بھی محتاج نہیں ہوتا اور ہر چیز سے بے نیاز ہوتا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کسی کو متبنّیٰ بنالے اور دنیا میں متبنیٰ عموماً وہ لوگ بناتے ہیں جو بے اولاد ہوں اور متبنّٰی بنانے سے ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ متبنّیٰ اس کا وارث بن سکے لیکن اللہ تعالیٰ کو اس کی بھی احتیاج نہیں کیونکہ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ گویا اس لحاظ سے بھی وہ بے نیاز ہے لہٰذا جو لوگ ایسی باتیں بناتے ہیں سب بے بنیاد ہیں اور اللہ تعالیٰ ایسے تمام عیوب سے پاک ہے۔
[83] بیٹا نہ ہونے کی عقلی دلیل:۔
یہ اللہ تعالیٰ کی اولاد نہ ہونے پر دوسری دلیل ہے اور وہ دلیل یہ ہے کہ اس کائنات میں جو چیز بھی موجود ہے وہ اللہ کی ملکیت ہے اور اولاد اپنے والد کی ملکیت نہیں ہوتی لہٰذا اللہ کی اولاد ہونا محال ہوا لہٰذا جو لوگ ایسی بات کہتے ہیں بلا دلیل کہتے ہیں اور ایسی بات اللہ کے ذمہ لگاتے ہیں جن کی انھیں سزا مل کر رہے گی دنیا کی چند روزہ زندگی میں وہ جو کچھ کہتے ہیں یا کرتے ہیں کر لیں بالآخر انھیں ہمارے پاس ہی آنا ہے ہم انھیں ان کے اس شرکیہ عقیدہ کی پوری پوری سزا دیں گے۔