تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { سُبْحٰنَهٗ هُوَ الْغَنِيُّ:} یہ ان کے شرک کو رد کرنے اور صرف اکیلے اللہ کے غنی ہونے کی دلیل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کسی کا محتاج نہیں کہ اسے بیٹے یا بیٹی کی ضرورت ہو، وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، آسمان و زمین کی ہر چیز اس کی ملکیت ہے، جبکہ بیٹا ملکیت نہیں بلکہ جانشین ہوتا ہے، پھر اولاد کا حاصل کرنا شہوت و لذت کو چاہتا ہے جو دونوں چیزیں بیوی کا محتاج بناتی ہیں، جبکہ اللہ کسی کا محتاج نہیں، وہ اکیلی ذات ہی تو غنی اور ہر ایک سے بے پروا ہے۔ {” هُوَ الْغَنِيُّ “} میں {” هُوَ “} کے بعد {” الْغَنِيُّ “} پر الف لام کا معنی ہی یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی غنی، کوئی بے پروا ہے ہی نہیں، سب محتاج ہیں۔ اولاد وہی حاصل کرتا ہے جو فانی ہو، تاکہ اس کے فنا ہونے کے بعد اولاد اس کی قائم مقام ہو جائے، اللہ تعالیٰ کی ذات ازلی اور ابدی ہے، شہوت و لذت اور فقر و احتیاج سے پاک اور بالا ہے، لہٰذا اس کی طرف اولاد کی نسبت سرے سے محال ہے۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۱۱۱)، کہف (۴، ۵) اور مریم (۸۸ تا ۹۰)۔
➌ { اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۭ بِهٰذَا:} ان کے عقیدے کو دلیل سے رد کرنے کے بعد مزید رد اور انکار کے لیے فرمایا کہ ان کے پاس اس کی قطعاً کوئی دلیل نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر وہ بات جس کے ساتھ اس کی دلیل نہ ہو توجہ کے قابل نہیں ہوتی۔ (شوکانی)
➍ { اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ:} یہ نہایت مبالغہ کے ساتھ ان کے گمان کی تردید ہے، یعنی تم وہ بات کہتے ہو جس کا تمھیں کوئی علم نہیں، کیا تم سب سے عظیم اور ہر چیز کی مالک ہستی اللہ تعالیٰ پر وہ بات کہتے ہو جس کی نہ تمھارے پاس کوئی دلیل ہے اور نہ کوئی علم۔ محض جہل کی بنیاد پر بہتان باندھ رہے ہو۔ آلوسی نے فرمایا: ”اس آیت میں دلیل ہے کہ ہر وہ بات جس کی دلیل نہ ہو علم نہیں بلکہ جہل ہے، جب کہ عقیدے کے لیے قطعی یقینی علم ضروری ہے اور یہ کہ تقلید کا ہدایت سے کوئی تعلق نہیں۔“ قرآن مجید نے کئی جگہ اہل باطل سے دلیل کا مطالبہ کیا ہے، فرمایا: «{ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ }» [البقرۃ: ۱۱۱] ”کہہ دے لاؤ اپنی دلیل اگر تم سچے ہو۔“ مزید دیکھیے سورۂ انبیاء (۲۴)، نمل (۶۴) اور قصص (۷۵)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى مخبراً عن بهت المشركين لربِّ العالمين: {قالوا اتَّخذ الله ولداً}: فنزَّه نفسه عن ذلك بقوله: {سبحانه}؛ أي: تنزه عما يقول الظالمون في نسبة النقائص إليه علوًّا كبيراً. ثم برهن عن ذلك بعدة براهين: أحدها قوله: {هو الغنيُّ}؛ أي: الغِنَى منحصرٌ فيه، وأنواع الغنى مستغرقة فيه؛ فهو الغني الذي له الغنى التامُّ بكل وجه واعتبار من جميع الوجوه؛ فإذا كان غنيًّا من كل وجه؛ فلأيِّ شيء يتَّخذ الولد؟! ألحاجة منه إلى الولد؟ فهذا منافٍ لغناه؛ فلا يتَّخِذ أحدًا ولداً إلا لنقص في غناه؟!
البرهان الثاني قوله: {له ما في السموات وما في الأرض}: وهذه كلمة جامعة عامةٌ، لا يخرج عنها موجودٌ من أهل السماوات والأرض، الجميع مخلوقون عبيدٌ مماليك، ومن المعلوم أن هذا الوصفَ العامَّ ينافي أن يكون له [منهم] ولدٌ؛ فإنَّ الولد من جنس والده، لا يكون مخلوقاً ولا مملوكاً؛ فملكيَّته لما في السماوات والأرض عموماً تنافي الولادة.
البرهان الثالث قوله: {إن عندكم من سُلطانٍ بهذا}؛ أي: هل عندكم من حجَّةٍ وبرهان يدلُّ على أنَّ لله ولداً؟! فلو كان لهم دليلٌ؛ لأبدَوْه، فلما تحدَّاهم وعجَّزهم عن إقامة الدليل؛ عُلم بطلان ما قالوه، وأنَّ ذلك قولٌ بلا علم، ولهذا قال: {أتقولون على الله ما لا تعلمون}: فإنَّ هذا من أعظم المحرَّمات.