ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ يونس (10) — آیت 57

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَتۡکُمۡ مَّوۡعِظَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوۡرِ ۬ۙ وَ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃٌ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۵۷﴾
اے لوگو! بے شک تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے عظیم نصیحت اور اس کے لیے سراسر شفا جو سینوں میں ہے اور ایمان والوں کے لیے سرا سر ہدایت اور رحمت آئی ہے۔ En
لوگو تمہارے پروردگار کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی بیماریوں کی شفا۔ اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت آپہنچی ہے
En
اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک ایسی چیز آئی ہے جو نصیحت ہے اور دلوں میں جو روگ ہیں ان کے لیے شفا ہے اور رہنمائی کرنے والی ہے اور رحمت ہے ایمان والوں کے لیے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

57۔ لوگو! تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نصیحت آچکی۔ یہ دلوں کے امراض [71] کی شفا اور مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے
[71] قرآن کی چار صفات اور ان کی ترتیب: موعظت، شفا، ہدایت اور رحمت:۔
اس آیت میں قرآن کریم کی چار صفات بیان کی گئی ہیں۔ پہلی صفت موعظت ہے موعظت ایسی نصیحت کو کہتے ہیں جو انسان کی توجہ کو دنیا کے انہماک سے ہٹا کر اللہ کی یاد اور روز آخرت کی طرف مبذول کرے اور اس سے دلوں میں رقت اور دنیا سے بے رغبتی اور آخرت سے لگاؤ پیدا ہو۔ دوسری صفت یہ ہے کہ یہ قرآن دلوں کی بیماریوں مثلاً شرک اور کفر کا عقیدہ، حسد، بغض، خود غرضی، بخل، لالچ وغیرہ کے لیے شفا کا کام دیتا ہے جو شخص قرآن پڑھتا اور اس پر عمل کرتا ہے یہ روگ از خود اس کے دل سے دور ہو جاتے ہیں۔ تیسری صفت یہ ہے کہ قرآن انسان کی زندگی کے تمام شعبوں میں اس کی پوری طرح رہنمائی کرتا ہے وہ ہر فرد کے الگ الگ حقوق متعین کرتا ہے اور ایسے قوانین بتلاتا ہے جس سے فرد، معاشرہ اور حکومت میں سے کسی کے حقوق مجروح بھی نہ ہوں اور کسی دوسرے پر زیادتی بھی نہ ہو۔ اور اس کی چوتھی صفت یہ ہے کہ جو شخص قرآن پر عمل پیرا ہوتا ہے یا جو معاشرہ یا حکومت اس کی اتباع کرتی ہے اس پر اس دنیا میں بھی اللہ کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے اور آخرت میں بھی ہو گا۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے۔
قرآن کے ذریعے سربلندی اور ذلت:۔
سیدنا عمرؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس کتاب (قرآن کریم) کے ذریعہ بہت سے لوگوں کو سربلندی عطا فرمائے گا اور بہت سے لوگوں کو ذلیل کرے گا“
[مسلم۔ کتاب فضائل القرآن، باب من یقوم بالقرآن ویعلمہ]
2۔ سیدنا زید بن ارقمؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی کتاب میں ہدایت ہے اور روشنی ہے جس نے اسے مضبوطی سے پکڑے رکھا وہ ہدایت پر قائم ہو گیا اور جس نے اس سے غفلت برتی وہ گمراہ ہو گیا“ اور زید بن ارقم ہی کی دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں: ”یہ کتاب اللہ کی رسی ہے جو اس پر عمل پیرا ہوا وہ ہدایت پر ہو گا اور جس نے اسے چھوڑ دیا وہ گمراہی پر ہو گا۔“
[مسلم، کتاب الفضائل۔ باب من فضائل علی بن ابی طالب]