تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔
[مسلم۔ کتاب فضائل القرآن، باب من یقوم بالقرآن ویعلمہ]
2۔ سیدنا زید بن ارقمؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی کتاب میں ہدایت ہے اور روشنی ہے جس نے اسے مضبوطی سے پکڑے رکھا وہ ہدایت پر قائم ہو گیا اور جس نے اس سے غفلت برتی وہ گمراہ ہو گیا“ اور زید بن ارقم ہی کی دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں: ”یہ کتاب اللہ کی رسی ہے جو اس پر عمل پیرا ہوا وہ ہدایت پر ہو گا اور جس نے اسے چھوڑ دیا وہ گمراہی پر ہو گا۔“
[مسلم، کتاب الفضائل۔ باب من فضائل علی بن ابی طالب]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
«وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلَّا خَسَارًا» ۱؎ [17-الاسراء:82] ’ یہ ہمارا نازل کردہ قرآن مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے، ظالم تو اپنے نقصان میں ہی بڑھتے رہتے ہیں ‘۔
اور آیت میں ہے کہ «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُولَـٰئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ» ۱؎ [41-فصلت:44] ’ کہہ دے کہ یہ تو ایمانداروں کے لیے ہدایت اور شفاء ہے۔ اللہ کے فضل و رحمت یعنی اس قرآن کے ساتھ خوش ہونا چاہیئے۔ دنیائے فانی کے دھن دولت پر ریجھ جانے اور اس پر شادماں و فرحاں ہو جانے سے تو اس دولت کو حاصل کرنے اور اس ابدی خوشی اور دائمی مسرت کو پالینے سے بہت خوش ہونا چاہیئے ‘۔
ابن ابی حاتم اور طبرانی میں ہے کہ جب عراق فتح ہو گیا اور وہاں سے خراج دربار فاروق رضی اللہ عنہ میں پہنچا تو آپ رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ نے اونٹوں کی گنتی کرنا چاہی لیکن وہ بے شمار تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرکے اسی آیت کی تلاوت کی۔ تو آپ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ عمرو نے کہا، یہ بھی تو اللہ کا فضل و رحمت ہی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”تم نے غلط کہا یہ تمہارے ہمارے حاصل کردہ ہیں جس فضل و رحمت کا بیان اس آیت میں ہے وہ یہ نہیں۔“
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى مرغِّباً للخلقِ في الإقبال على هذا الكتاب الكريم بذكْر أوصافه الحسنة الضروريَّة للعباد فقال: {يا أيُّها الناس قد جاءتكم موعظةٌ من ربِّكم}؛ أي: تعظكم وتنذركم عن الأعمال الموجبة لسخط الله، المقتضية لعقابه، وتحذِّركم عنها ببيان آثارها ومفاسدها، {وشفاءٌ لما في الصدور}: وهو هذا القرآن، شفاءٌ لما في الصدور من أمراض الشهوات الصَّادة عن الانقياد للشرع، وأمراض الشُّبهات القادحة في العلم اليقينيِّ؛ فإنَّ ما فيه من المواعظ والترغيب والترهيب والوعد والوعيد مما يوجب للعبد الرغبة والرهبة، وإذا وُجِدَتْ فيه الرغبة في الخير والرَّهبة عن الشرِّ ونمتا على تكرُّر ما يرد إليها من معاني القرآن؛ أوجب ذلك تقديم مراد الله على مراد النفس، وصار ما يرضي اللهَ أحبَّ إلى العبد من شهوة نفسه، وكذلك ما فيه من البراهين والأدلَّة التي صرَّفها الله غاية التصريف وبيَّنها أحسن بيان مما يزيل الشُّبه القادحة في الحقِّ ويصل به القلب إلى أعلى درجات اليقين، وإذا صحَّ القلب من مرضه، ورَفَلَ بأثواب العافية؛ تبعتْه الجوارحُ كلُّها؛ فإنها تصلُح بصلاحه وتفسُد بفساده.
{وهدىً ورحمةٌ للمؤمنين}: فالهدى هو العلم بالحقِّ والعمل به، والرحمةُ هي ما يحصل من الخير والإحسان والثواب العاجل والآجل لمن اهتدى به؛ فالهدى أجلُّ الوسائل، والرحمةُ أكملُ المقاصد والرغائب، ولكنْ لا يهتدي به ولا يكون رحمةً إلاَّ في حقِّ المؤمنين، وإذا حصل الهدى وحلَّت الرحمة الناشئة عنه؛ حصلت السعادةُ والفلاح والربح والنجاح والفرح والسرور.