ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ يونس (10) — آیت 43

وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّنۡظُرُ اِلَیۡکَ ؕ اَفَاَنۡتَ تَہۡدِی الۡعُمۡیَ وَ لَوۡ کَانُوۡا لَا یُبۡصِرُوۡنَ ﴿۴۳﴾
اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو تیری طرف دیکھتے ہیں، تو کیا تو اندھوں کو راستہ دکھائے گا، اگرچہ وہ بصیرت نہ رکھتے ہوں۔ En
اور بعض ایسے ہیں کہ تمھاری طرف دیکھتے ہیں۔ تو کیا تم اندھوں کو راستہ دکھاؤ گے اگرچہ کچھ بھی دیکھتے (بھالتے) نہ ہوں
En
اور ان میں بعض ایسے ہیں کہ آپ کو تک رہے ہیں۔ پھر کیا آپ اندھوں کو راستہ دکھلانا چاہتے ہیں گو ان کو بصیرت بھی نہ ہو؟ En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

43۔ اور کچھ ایسے ہیں جو آپ کی طرف دیکھتے ہیں تو کیا آپ اندھوں کو راہ دکھا سکتے ہیں خواہ وہ کچھ دیکھتے (بھالتے) [58] نہ ہوں
[58] دل بینا اور ظاہری بینائی:۔
یعنی جو لوگ دل کے بہرے ہیں وہ اگر آپ کی باتیں سن بھی لیں تو ان کے دل پر کیا اثر ہو سکتا ہے؟ بالخصوص اس صورت میں کہ وہ بے عقل بھی ہوں کہ اگر وہ سن نہیں سکتے تو کم از کم اشاروں سے ہی کچھ سمجھ جائیں۔ اسی طرح کچھ لوگ ایسے ہیں جو دل کے اندھے ہیں ان کا دل آپ کی باتوں کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتا۔ پھر اگر وہ آپ کی باتیں سننے کے لیے آپ کی طرف دیکھ بھی رہے ہوں تو اس دیکھنے کا انہیں کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے بالخصوص اس صورت میں کہ وہ بے بصیرت بھی ہوں کہ اگر کوئی بات ان کے کانوں میں پڑ بھی جائے تو اسے سمجھ ہی نہ سکیں۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے ظاہری طور پر سننے اور دیکھنے سے آپ یہ توقع مت رکھیں کہ آپ کی باتوں کا ان پر کچھ اثر ہو گا اور وہ ایمان لے آئیں گے ایک دوسرے مقام پر قرآن میں ایسے لوگوں کو چوپایوں سے بھی بد تر قرار دیا گیا ہے کیونکہ ایسے لوگوں کا سننا اور دیکھنا بالکل چوپایوں کی طرح ہے وہ بھی عقل و فہم سے کورے یہ بھی کورے۔ اور بد تر اس لحاظ سے کہ چوپایوں میں تو عقل و فہم کا ملکہ پیدا ہی نہیں کیا گیا، جبکہ ان میں ایسا ملکہ موجود ہونے کے باوجود اس سے کام نہیں لے رہے۔