[7]«رحمٰن» اور «رحيم» کا فرق پہلی آیت ﴿بسم الله الرحمٰن الرحيم﴾ میں بتایا جا چکا ہے۔ ان الفاظ کو یہاں دوبارہ لانے کا مقصد صرف اس بات کا اظہار ہے کہ تمام جہانوں کی ربوبیت عامہ کے تقاضے صرف اسی صورت میں پورے ہو سکتے ہیں جب ان عالمین کا پروردگار «رحمٰن» بھی ہو اور «رحيم» بھی ہو۔ اگر اللہ تعالیٰ«رحمٰن» اور «رحيم» نہ ہوتا تو یہ دنیا کبھی آباد نہ رہ سکتی بلکہ کب کی فنا ہو چکی ہوتی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔