کہہ دے بلاشبہ وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو، سو یقینا وہ تم سے ملنے والی ہے، پھر تم ہر پوشیدہ اورظاہر چیز کو جاننے والے کی طرف لوٹائے جاؤ گے تو وہ تمھیں بتائے گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔
En
کہہ دو کہ موت جس سے تم گریز کرتے ہو وہ تو تمہارے سامنے آ کر رہے گی۔ پھر تم پوشیدہ اور ظاہر کے جاننے والے (خدا) کی طرف لوٹائے جاؤ گے پھر جو کچھ تم کرتے رہے ہو وہ سب تمہیں بتائے گا
کہہ دیجئے! کہ جس موت سے تم بھاگتے پھرتے ہو وه تو تمہیں پہنچ کر رہے گی پھر تم سب چھپے کھلے کے جاننے والے (اللہ) کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور وه تمہیں تمہارے کیے ہوئے تمام کام بتلا دے گا
En
پھر فرماتا ہے موت سے تو کوئی بچ ہی نہیں سکتا، جیسے سورۃ نساء میں ہے «أَيْنَمَاتَكُونُوايُدْرِككُّمُالْمَوْتُوَلَوْكُنتُمْفِيبُرُوجٍمُّشَيَّدَةٍ»[4-النساء:78] یعنی تم جہاں کہیں بھی ہو وہاں تمہیں موت پا ہی لے گی گو مضبوط محلوں میں ہو، معجم طبرانی کی ایک مرفوع حدیث میں ہے { موت سے بھاگنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے ایک لومڑی ہو جس پر زمین کا کچھ قرض ہو وہ اس خوف سے کہ کہیں یہ مجھ سے مانگ نہ بیٹھے، بھاگے، بھاگتے بھاگتے جب تھک جائے تب اپنے بھٹ میں گھس جائے، جہاں گھسی اور زمین نے پھر اس سے تقاضا کیا کہ لومڑی میرا قرض ادا کر دو پھر وہاں سے دم دبائے ہوئے تیزی سے بھاگی آخر یونہی بھاگتے بھاگتے ہلاک ہو گئی۔ } [طبرانی6922ضعیف]
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔