اور انھوں نے کہا اس پر کوئی فرشتہ کیوں نہ اتارا گیا؟ اور اگر ہم کوئی فرشتہ اتارتے تو ضرور کام تمام کر دیا جاتا، پھر انھیں مہلت نہ دی جاتی۔
اور کہتے ہیں کہ ان (پیغمبر) پر فرشتہ کیوں نازل نہ ہوا (جو ان کی تصدیق کرتا) اگر ہم فرشتہ نازل کرتے تو کام ہی فیصل ہو جاتا پھر انھیں (مطلق) مہلت نہ دی جاتی
اور یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا اور اگر ہم کوئی فرشتہ بھیج دیتے تو سارا قصہ ہی ختم ہوجاتا۔ پھر ان کو ذرا مہلت نہ دی جاتی
انسانوں میں سے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عظیم احسان ٭٭
کفار کی ضد اور سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ یہ تو حق کے دشمن ہیں۔ بالفرض یہ کتاب اللہ کو آسمان سے اترتی ہوئی اپنی آنکھوں دیکھ لیتے اور اپنے ہاتھ لگا کر اسے اچھی طرح معلوم کر لیتے پھر بھی ان کا کفر نہ ٹوٹتا اور یہ کہہ دیتے کہ یہ تو کھلا جادو ہے، محسوسات کا انکار بھی ان سے بعید نہیں۔
جیسے اور جگہ ہے آیت «وَلَوْفَتَحْنَاعَلَيْهِمْبَابًامِّنَالسَّمَاءِفَظَلُّوْافِيْهِيَعْرُجُوْنَلَقَالُواإِنَّمَاسُكِّرَتْأَبْصَارُنَابَلْنَحْنُقَوْمٌمَّسْحُورُونَ»۱؎[15۔الحجر:15،14] یعنی ’ اگر ہم آسمان کا دروازہ کھول دیتے اور یہ خود اوپر چڑھ جاتے، جب یہ بھی یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی ہے بلکہ ہم پر جادو کر دیا گیا ہے ‘۔ اور ایک آیت میں ہے «وَاِنْيَّرَوْاكِسْفًامِّنَالسَّمَاءِسَاقِـطًايَّقُوْلُوْاسَحَابٌمَّرْكُوْمٌ»۱؎[52۔الطور:44] غرض کہ جن باتوں کے ماننے کے عادی نہیں انہیں ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی ایمان نصیب نہیں ہونے کا۔ یہ کہتے ہیں کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سچے رسول ہیں تو ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کسی فرشتے کی ڈیوٹی کیوں نہیں لگائی؟ اللہ تعالیٰ جواب دیتا ہے کہ ’ ان کی اس بے ایمانی پر اگر فرشتے آ جاتے تو پھر تو کام ہی ختم کر دیا جاتا، چنانچہ اور آیت میں ہے «مَانُنَزِّلُالْمَلٰىِٕكَةَاِلَّابالْحَقِّوَمَاكَانُوْٓااِذًامُّنْظَرِيْنَ»۱؎[15۔الحجر:8] یعنی ’ فرشتوں کو ہم حق کے ساتھ ہی اتارتے ہیں۔ اگر یہ آ جائیں تو پھر مہلت و تاخیر ناممکن ہے ‘ اور جگہ ہے آیت «يَوْمَيَرَوْنَالْمَلٰىِٕكَةَلَابُشْرٰىيَوْمَىِٕذٍلِّلْمُجْرِمِيْنَوَيَقُوْلُوْنَحِجْـرًامَّحْجُوْرًا»۱؎[25۔الفرقان:22] ’ جس دن یہ لوگ فرشتوں کو دیکھ لیں گے اس دن گہنگار کو کوئی بشارت نہیں ہوگی ‘۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔