ترجمہ و تفسیر ابن کثیر — سورۃ المائده (5) — آیت 15

یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ قَدۡ جَآءَکُمۡ رَسُوۡلُنَا یُبَیِّنُ لَکُمۡ کَثِیۡرًا مِّمَّا کُنۡتُمۡ تُخۡفُوۡنَ مِنَ الۡکِتٰبِ وَ یَعۡفُوۡا عَنۡ کَثِیۡرٍ ۬ؕ قَدۡ جَآءَکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ نُوۡرٌ وَّ کِتٰبٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ۙ۱۵﴾
اے اہل کتاب! بے شک تمھارے پاس ہمارا رسول آیا ہے، جو تمھارے لیے ان میں سے بہت سی باتیں کھول کر بیان کرتا ہے، جو تم کتاب میں سے چھپایا کرتے تھے اور بہت سی باتوں سے در گزر کرتا ہے۔ بے شک تمھارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشنی اور واضح کتاب آئی ہے۔ En
اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزماں) آ گئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتے ہیں بےشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے
En
اے اہل کتاب! یقیناً تمہارے پاس ہمارا رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) آ چکا جو تمہارے سامنے کتاب اللہ کی بکثرت ایسی باتیں ﻇاہر کر رہا ہے جنہیں تم چھپا رہے تھے اور بہت سی باتوں سے درگزر کرتا ہے، تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے نور اور واضح کتاب آ چکی ہے En

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

علمی بددیانت ٭٭
فرماتا ہے کہ ’ رب الاعلیٰ نے اپنے عالی قدر رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ تمام مخلوق کی طرف بھیج دیا ہے، معجزے اور روشن دلیلیں انہیں عطا فرمائی ہیں جو باتیں یہود و نصاریٰ نے بدل ڈالی تھیں، تاویلیں کرکے دوسرے مطلب بنا لیے تھے اور اللہ کی ذات پر بہتان باندھتے تھے، کتاب اللہ کے جو حصے اپنے نفس کے خلاف پاتے تھے، انہیں چھپا لیتے تھے، ان سب علمی بد دیانتیوں کو یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بے نقاب کرتے ہیں۔ ہاں جس کے بیان کی ضرورت ہی نہ ہو، بیان نہیں فرماتے ‘۔
مستدرک حاکم میں ہے جس نے رجم کے مسئلہ کا انکار کیا، اس نے بےعملی سے قرآن سے انکار کیا۔‏‏‏‏ چنانچہ اس آیت میں اسی رجم کے چھپانے کا ذکر ہے۔
پھر قرآن عظیم کی بابت فرماتا ہے کہ ’ اسی نے اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی یہ کتاب اتاری ہے، جو جویائے حق کو سلامتی کی راہ بتاتی ہے، لوگوں کو ظلمتوں سے نکال کر نور کی طرف لے جاتی ہے اور راہ مستقیم کی رہبر ہے اس کتاب کی وجہ سے اللہ کے انعاموں کو حاصل کر لینا اور اس کی سزاؤں سے بچ جانا بالکل آسان ہو گیا ہے یہ ضلالت کو مٹا دینے والی اور ہدایت کو واضح کر دینے والی ہے ‘۔