اور تو فرشتوں کو دیکھے گا عرش کے گرد گھیرا ڈالے ہو ئے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں اور ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا ا ور کہا جائے گا کہ سب تعریف ا للہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
En
تم فرشتوں کو دیکھو گے کہ عرش کے گرد گھیرا باندھے ہوئے ہیں (اور) اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں۔ اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ ہر طرح کی تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے جو سارے جہان کا مالک ہے
اور تو فرشتوں کو اللہ کے عرش کے اردگرد حلقہ باندھے ہوئے اپنے رب کی حمد و تسبیح کرتے ہوئے دیکھے گا اور ان میں انصاف کا فیصلہ کیا جائے گا اور کہہ دیا جائے گا کہ ساری خوبی اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے
En
جبکہ اللہ تعالیٰ نے اہل جنت اور اہل جہنم کا فیصلہ سنا دیا اور انہیں ان کے ٹھکانے پہنچائے جانے کا حال بھی بیان کر دیا۔ اور اس میں اپنے عدل و انصاف کا ثبوت بھی دے دیا، تو اس آیت میں فرمایا کہ ’ قیامت کے روز اس وقت تو دیکھے گا کہ فرشتے اللہ کے عرش کے چاروں طرف کھڑے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و تسبیح بزرگی اور بڑائی بیان کر رہے ہوں گے ‘۔ ساری مخلوق میں عدل و حق کے ساتھ فیصلے ہو چکے ہوں گے۔ اس سراسر عدل اور بالکل رحم والے فیصلوں پر کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی ثنا خوانی کرنے لگے گا اور جاندار چیز سے آواز آئے گی کہ «الْحَمْدُلِلَّـهِرَبِّالْعَالَمِينَ» چونکہ اس وقت ہر اک تر و خشک چیز اللہ کی حمد بیان کرے گی اس لیے یہاں مجہول کا صیغہ لا کر فاعل کو عام کر دیا گیا۔ قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں خلق کی پیدائش کی ابتداء بھی حمد سے ہے، فرماتا ہے «الْحَمْدُلِلَّـهِالَّذِيخَلَقَالسَّمَاوَاتِوَالْأَرْضَ»۱؎[6-الأنعام:1] اور مخلوق کی انتہا بھی حمد سے ہے، فرماتا ہے «وَقُضِيَبَيْنَهُمْبالْحَقِّوَقِيْلَالْحَـمْدُلِلّٰهِرَبِّالْعٰلَمِيْنَ»۱؎[39-الزمر:75]۔ «اَلْحَمْدُلِلّٰهِ» سورۃ الزمر کی تفسیر ختم ہوئی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔