وہ فرشتوں کو وحی کے ساتھ اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے نازل کرتا ہے کہ خبردار کر دو کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو مجھ سے ڈرو۔
En
وہی فرشتوں کو پیغام دے کر اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس کے پاس چاہتا ہے بھیجتا ہے کہ (لوگوں کو) بتادو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو مجھی سے ڈرو
وہی فرشتوں کو اپنی وحی دے کر اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اتارتا ہے کہ تم لوگوں کو آگاه کر دو کہ میرے سوا اور کوئی معبود نہیں، پس تم مجھ سے ڈرو
En
روح سے مراد یہاں وحی ہے جیسے آیت «وَكَذَٰلِكَأَوْحَيْنَاإِلَيْكَرُوحًامِّنْأَمْرِنَامَاكُنتَتَدْرِيمَاالْكِتَابُوَلَاالْإِيمَانُوَلَـٰكِنجَعَلْنَاهُنُورًانَّهْدِيبِهِمَننَّشَاءُمِنْعِبَادِنَا»۱؎[42-الشوریٰ:52] الخ ’ ہم نے اسی طرح تیری طرف اپنے حکم سے وحی نازل فرمائی حالانکہ تجھے تو یہ بھی پتہ نہ تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کی ماہیت کیا ہے؟ ہاں ہم نے اسے نور بنا کر جسے چاہا اپنے بندوں میں سے راستہ دکھا دیا ‘۔ یہاں فرمان ہے کہ «اللَّـهُأَعْلَمُحَيْثُيَجْعَلُرِسَالَتَهُ»۱؎[6-الأنعام:124] ’ ہم جن بندوں کو چاہیں پیغبری عطا فرماتے ہیں ہمیں ہی اس کا پورا علم ہے کہ اس کے لائق کون؟ ‘ «اللَّـهُيَصْطَفِيمِنَالْمَلَائِكَةِرُسُلًاوَمِنَالنَّاسِ»۱؎[22-الحج:75] ’ ہم ہی فرشتوں میں سے بھی اس اعلیٰ منصب کے فرشتے چھانٹ لیتے ہیں اور انسانوں میں سے بھی ‘۔ «يُلْقِيالرُّوحَمِنْأَمْرِهِعَلَىٰمَنيَشَاءُمِنْعِبَادِهِلِيُنذِرَيَوْمَالتَّلَاقِيَوْمَهُمبَارِزُونَلَايَخْفَىٰعَلَىاللَّـهِمِنْهُمْشَيْءٌلِّمَنِالْمُلْكُالْيَوْمَلِلَّـهِالْوَاحِدِالْقَهَّارِ»۱؎[40-غافر:15-16] ’ اللہ اپنی وحی اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا اتارتا ہے تاکہ ملاقات کے دن سے ہوشیار کر دیں جس دن سب کے سب اللہ کے سامنے ہوں گے کوئی چیز اس سے مخفی نہ ہو گی۔ اس دن ملک کس کا ہو گا؟ صرف اللہ واحد و قہار کا ‘۔ «وَمَاأَرْسَلْنَامِنقَبْلِكَمِنرَّسُولٍإِلَّانُوحِيإِلَيْهِأَنَّهُلَاإِلَـٰهَإِلَّاأَنَافَاعْبُدُونِ»۱؎[21-الأنبياء:25] ’ ہم نے تُم سے پہلے جو رسُول بھی بھیجا ہے، یہ اس لیے کہ وہ لوگوں میں وحدانیت رب کا اعلان کر دیں اور پارسائی سے دور مشرکوں کو ڈرائیں اور لوگوں کو سمجھائیں کہ وہ مجھ سے ڈرتے رہا کریں ‘۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔