ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ التين (95) — آیت 7

فَمَا یُکَذِّبُکَ بَعۡدُ بِالدِّیۡنِ ؕ﴿۷﴾
پس اس کے بعد کون سی چیز تجھے جزا کے بارے میں جھٹلانے پر آمادہ کرتی ہے؟ En
تو (اے آدم زاد) پھر تو جزا کے دن کو کیوں جھٹلاتا ہے؟
En
پس تجھے اب روز جزا کے جھٹلانے پر کون سی چیز آماده کرتی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 7) {فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّيْنِ:} اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا کیا، پھر بعض نے تو اس ساخت کے تقاضوں کے مطابق ایمان اور عمل صالح اختیار کیا اور بعض نافرمانی کی وجہ سے اسفل السافلین ٹھہرے۔ ان دونوں کے عمل کا لازمی نتیجہ ہے کہ ایک دن ایسا ہو جس میں ہر ایک کو نیکی اور بدی کی جزا و سزا دی جائے۔ اتنی واضح دلیل کے بعد اے انسان! تجھے کون سی چیز آمادہ کر رہی ہے کہ تو جزا کو جھٹلا دے؟ اس کا دوسرا ترجمہ یہ ہے: اے نبی! اس کے بعد کون ہے جو تجھے جزا کے بارے میں جھٹلائے؟