(آیت 21){ وَلَسَوْفَيَرْضٰى:} یعنی جنت کی بے بہا نعمتیں اور بلند مراتب پا کر ضرور خوش ہوگا۔ اکثر مفسرین نے صحیح احادیث و آثار کی رو سے کہا ہے کہ اس سورت میں خرچ کرنے والے سے مراد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں کہ وہ کمزور مسلمان غلاموں کو کفار کے مظالم سے بچانے کے لیے خرید کر آزاد کر دیتے اور نیکی کا ہر کام خوشی خوشی محض رضائے الٰہی کے لیے کرتے تھے۔ یقینا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان آیات کا اوّلین مصداق ہیں مگر الفاظ عام ہیں، اس لیے ان میں ہر وہ مسلمان داخل ہے جو ان صفات کا حامل ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔