(آیت 11) {كَذَّبَتْثَمُوْدُبِطَغْوٰىهَاۤ: ”طَغْوٰي“ (سركشی) ”طَغَايَطْغُوْ“} (ن) کا مصدر ہے، جیسا کہ {”دَعَايَدْعُوْ“} کا مصدر{”دَعْوٰي“} ہے۔ بطور مثال تاریخ میں سے ایک قوم کا ذکر فرمایا، جس نے سرکشی کی وجہ سے اپنے آپ کو مٹی میں دبا دیا۔ ثمود صالح علیہ السلام کی قوم تھی، ان کے معجزہ طلب کرنے پر انھیں ایک اونٹنی دی گئی اور انھیں کہا گیا کہ ایک دن اس کے پینے کی باری ہوگی اور ایک دن تم سب کے پانی لینے کی۔ دیکھیے سورۂ شعراء (۱۵۵)۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔