ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الشمس (91) — آیت 11

کَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ بِطَغۡوٰىہَاۤ ﴿۪ۙ۱۱﴾
(قوم) ثمود نے اپنی سرکشی کی وجہ سے جھٹلا دیا۔ En
(قوم) ثمود نے اپنی سرکشی کے سبب (پیغمبر کو) جھٹلایا
En
(قوم) ﺛمود نے اپنی سرکشی کے باعﺚ جھٹلایا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 11) {كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰىهَاۤ: طَغْوٰي (سركشی) طَغَا يَطْغُوْ} (ن) کا مصدر ہے، جیسا کہ {دَعَا يَدْعُوْ} کا مصدر{دَعْوٰي} ہے۔ بطور مثال تاریخ میں سے ایک قوم کا ذکر فرمایا، جس نے سرکشی کی وجہ سے اپنے آپ کو مٹی میں دبا دیا۔ ثمود صالح علیہ السلام کی قوم تھی، ان کے معجزہ طلب کرنے پر انھیں ایک اونٹنی دی گئی اور انھیں کہا گیا کہ ایک دن اس کے پینے کی باری ہوگی اور ایک دن تم سب کے پانی لینے کی۔ دیکھیے سورۂ شعراء (۱۵۵)۔