(آیت 10){ وَقَدْخَابَمَنْدَسّٰىهَا: ”دَسَّا“”دَسَّيَدُسُّدَسًّا“} (ن) سے مبالغے کے لیے باب تفعیل ہے، معنی ہے مٹی میں دبا دینا، یہ اصل میں {”دَسَّسَ“} تھا، دوسرے سین کو الف کر دیا، جیسے {”تَقَضَّضَالْبَازِيْ“} (باز شکار پر ٹوٹ پڑا) کو {”تَقَضَّيالْبَازِيْ“} کہہ دیتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «اَمْيَدُسُّهٗفِيالتُّرَابِ» [النحل:۵۹]”یا اسے مٹی میں دبا دے۔“